حدیث نمبر: 22
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح وحَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ لِرَجُلٍ : " يَا ابْنَ أَخِي ، إِذَا حَدَّثْتُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا ، فَلَا تَضْرِبْ لَهُ الْأَمْثَالَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوسلمہ ( ابوسلمہ ابن عبدالرحمٰن بن عوف ) سے روایت ہے کہ` ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی سے کہا : میرے بھتیجے ! جب میں تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کروں تو تم اس پر کہاوتیں اور مثالیں نہ بیان کیا کرو ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب السنة / حدیث: 22
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، ويأتي بأتم 485 , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 15032 ، 15070 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/ 332 ) ( یہ حدیث مکرر ہے ، دیکھئے : 485 ) ( حسن ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´حدیث نبوی کی تعظیم و توقیر اور مخالفین سنت کے لیے سخت گناہ کی وعید۔`
ابوسلمہ (ابوسلمہ ابن عبدالرحمٰن بن عوف) سے روایت ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی سے کہا: میرے بھتیجے! جب میں تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کروں تو تم اس پر کہاوتیں اور مثالیں نہ بیان کیا کرو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 22]
اردو حاشہ: (1)
اس سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا طرز عمل معلوم ہوتا ہے کہ وہ حدیث سنتے ہی اس پر عمل کرتے تھے اور چون و چرا نہیں کرتے تھے۔

(2)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس شخص کے طرز عمل کو غلط قرار دیتے ہوئے تنبیہ فرمائی ہے جس نے حدیث سن کر عقلی موشگافیوں کے ذریعے سے اس پر اعتراض کرنے کی کوشش کی تھی۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 22 سے ماخوذ ہے۔