حدیث نمبر: 2195
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع غرر سے منع کیا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب التجارات / حدیث: 2195
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 5967 ) ، ومصباح الزجاجة : 771 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/302 ) ( صحیح ) » ( سند میں ایوب بن عتبہ ضعیف راوی ہیں ، لیکن سابقہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´بیع حصاۃ اور بیع غرر ممنوع ہے۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع غرر سے منع کیا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2195]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  دھوکے کی بیع میں وہ سب صورتیں شامل ہیں جن میں خریدی اور بیچی جانے والی چیز کی مقدار کا اندازہ نہ کیا جا سکتا ہے، مثلاً: دریا میں مچھلیوں کی فروخت، یا مادہ جانور کے پیٹ کے بچے کی خریدو فروخت۔

(2)
اگر جائز چیز کے ساتھ ضمناً ایسی چیز بھی فروخت ہو رہی ہو جس کی حقیقت معلون نہ ہو تو وہ جائز ہے، مثلاً حاملہ جانور فروخت کیا جائے تو اس کے ساتھ اس کے پیٹ کا بیچ بھی فروخت ہوتا ہے جسے الگ سے فروخت کرنا جائز نہیں لیکن ماں کے ساتھ اس کی بیع درست ہے۔
اس طرح مکان فروخت کرتے وقت اس کی بنیادیں بھی ساتھ ہی فروخت ہو جاتی ہیں، حالانکہ ان کے بارے میں یہ اطمینان کرنا مشکل ہے کہ وہ کتنی گہری اور کتنی موٹی ہیں۔

(3)
  کنکری کی بیع سے مراد لاٹری کی وہ صورتیں ہیں جو اس دور میں رائج تھیں، مثلاً: دکاندار گاہک سے کہتا کہ تم کنکری پھینکو جس چیز کو وہ کنکری لگے گی، میں وہ چیز تمہیں سو روپے کی دے دوں گا، جب کہ وہ چیزیں مقدار، معیار اور قدرو قیمت کے لحاظ سے مختلف ہویتں۔
آج کے دور میں لاٹری کی بہت سی صورتیں رائج ہیں، جیسے بعض کمپنیاں اپنی مصنوعات کی فروخت میں اضافہ کرنے کے لیے انعامی سکیمیں شروع کردیتی ہیں۔
یہ سب ’’کنکری کی بیع‘‘ کے حکم میں ہیں۔

(4)
  جاہلیت میں کنکری کی بیع کی ایک صورت یہ بھی تھی کہ تم کنکری پھینکو جہاں تک کنکری پہنچے گی میں اتنی زمین تمہیں فلاں قیمت میں دے دوں گا۔
یہ بھی منع ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2195 سے ماخوذ ہے۔