حدیث نمبر: 2182
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ جَمِيلِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْوَضِيءِ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بائع اور مشتری ( بیچنے اور خریدنے والے ) جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں دونوں کو ( بیع کے منسوخ کرنے کا ) اختیار ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب التجارات / حدیث: 2182
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « سنن ابی داود/البیوع 35 ( 3457 ) ، ( تحفة الأشراف : 11599 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 4/425 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 3457

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3457 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´بیچنے اور خریدنے والے کے اختیار کا بیان۔`
ابوالوضی کہتے ہیں ہم نے ایک جنگ لڑی ایک جگہ قیام کیا تو ہمارے ایک ساتھی نے غلام کے بدلے ایک گھوڑا بیچا، اور معاملہ کے وقت سے لے کر پورا دن اور پوری رات دونوں وہیں رہے، پھر جب دوسرے دن صبح ہوئی اور کوچ کا وقت آیا، تو وہ (بیچنے والا) اٹھا اور (اپنے) گھوڑے پر زین کسنے لگا اسے بیچنے پر شرمندگی ہوئی (زین کس کر اس نے واپس لے لینے کا ارادہ کر لیا) وہ مشتری کے پاس آیا اور اسے بیع کو فسخ کرنے کے لیے پکڑا تو خریدنے والے نے گھوڑا لوٹانے سے انکار کر دیا، پھر اس نے کہا: میرے اور تمہارے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابوبرزہ رضی اللہ عنہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3457]
فوائد ومسائل:
فائدہ۔
حضرت ابو برزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان دونوں معاملہ کرنے والوں کی دن رات کی طویل مجلس کو ایک ہی مجلس قرار دیا اور بیع فسخ کرادی۔
حالانکہ اس دوران میں ان دونوں نے سودے کے بعد بے شمار دوسرے لوازمات پر بات چیت کی ہوگی۔
لیکن حضرت ابو برزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دونوں کے ایک ہی جگہ رہنے کو ایک مجلس قرار دیا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3457 سے ماخوذ ہے۔