سنن ابن ماجه
كتاب التجارات— کتاب: تجارت کے احکام و مسائل
بَابُ : النَّهْيِ عَنْ تَلَقِّي الْجَلَبِ باب: بازار میں پہنچنے سے پہلے تاجروں سے جا کر ملنا اور ان سے سامان تجارت خریدنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 2180
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَحَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَلَقِّي الْبُيُوعِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال بیچنے والوں سے بازار میں پہنچنے سے پہلے آگے جا کر ملنے سے منع فرمایا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2164 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2164. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ جس کسی نے دودھ بستہ جانور خریدا (اگر اسے واپس کرنا چاہے تو) وہ اسکے ساتھ ایک صاع(کھجور)واپس کرے، نیز انھوں نے کہاکہ نبی کریم ﷺ نے (تجارتی قافلوں سے) آگے بڑھ کر ملنے سے بھی منع فرمایاہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2164]
حدیث حاشیہ:
(1)
محفلة کے معنی یہ ہیں کہ دودھ والے جانور کا ایک دن یا دو دن دودھ نہ دوہا جائے تاکہ دودھ اس کے تھنوں میں جمع ہوجائے۔
خریدار جب اس قسم کے جانور کو دوہتا ہے تو دودھ کے زیادہ ہونے کی وجہ سے جانور مہنگے داموں خرید لیتا ہے، اسے بعد میں پتا چلتا ہے کہ میرے ساتھ دھوکا کیا گیا ہے،اس لیے شریعت نے اسے تین دن تک بیع واپس کرنے کا اختیار دیا ہے۔
اگر واپس کرنا چاہے تو جھگڑا ختم کرنے کےلیے صاع بھر کھجوریں ساتھ دے۔
(2)
تلقی البیوع کے معنی یہ ہیں کہ باہر سے کوئی قافلہ سامان تجارت لے کر آرہا ہو اور اس کے منڈی پہنچنے سے پہلے پہلے شہری لوگ آگے جاکر سستے داموں سامان خرید لیں۔
رسول اللہ ﷺ نے ایسا کرنے سے منع فرمایا، جس کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔
(1)
محفلة کے معنی یہ ہیں کہ دودھ والے جانور کا ایک دن یا دو دن دودھ نہ دوہا جائے تاکہ دودھ اس کے تھنوں میں جمع ہوجائے۔
خریدار جب اس قسم کے جانور کو دوہتا ہے تو دودھ کے زیادہ ہونے کی وجہ سے جانور مہنگے داموں خرید لیتا ہے، اسے بعد میں پتا چلتا ہے کہ میرے ساتھ دھوکا کیا گیا ہے،اس لیے شریعت نے اسے تین دن تک بیع واپس کرنے کا اختیار دیا ہے۔
اگر واپس کرنا چاہے تو جھگڑا ختم کرنے کےلیے صاع بھر کھجوریں ساتھ دے۔
(2)
تلقی البیوع کے معنی یہ ہیں کہ باہر سے کوئی قافلہ سامان تجارت لے کر آرہا ہو اور اس کے منڈی پہنچنے سے پہلے پہلے شہری لوگ آگے جاکر سستے داموں سامان خرید لیں۔
رسول اللہ ﷺ نے ایسا کرنے سے منع فرمایا، جس کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2164 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1518 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سامان تجارت کو باہر جا کر ملنے سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3821]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: بیوع، بیع کی جمع ہے لیکن بیع قابل فروخت چیز کے معنی میں ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1518 سے ماخوذ ہے۔