حدیث نمبر: 2148
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : كُنْتُ أُجَهِّزُ إِلَى الشَّامِ وَإِلَى مِصْرَ فَجَهَّزْتُ إِلَى الْعِرَاقِ ، فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، فَقُلْتُ : لَهَا يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ كُنْتُ أُجَهِّزُ إِلَى الشَّامِ فَجَهَّزْتُ إِلَى الْعِرَاقِ ، فَقَالَتْ : لَا تَفْعَلْ مَا لَكَ وَلِمَتْجَرِكَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا سَبَّبَ اللَّهُ لِأَحَدِكُمْ رِزْقًا مِنْ وَجْهٍ ، فَلَا يَدَعْهُ حَتَّى يَتَغَيَّرَ لَهُ ، أَوْ يَتَنَكَّرَ لَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´نافع کہتے ہیں کہ` میں اپنا سامان تجارت شام اور مصر بھیجا کرتا تھا ، پھر میں نے عراق کی طرف بھیج دیا ، پھر میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا ، اور ان سے کہا کہ میں اپنا سامان تجارت شام بھیجا کرتا تھا ، لیکن اس بار میں نے عراق بھیج دیا ہے ، تو انہوں نے کہا : ایسا نہ کرو ، تمہاری پہلی تجارت گاہ کو کیا ہوا کہ اس کو چھوڑ کر تم نے دوسری اختیار کر لی ؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” اللہ تعالیٰ جب تم میں سے کسی کے لیے روزی کا کوئی ذریعہ پیدا کر دے ، تو وہ اسے نہ چھوڑے یہاں تک کہ وہ بدل جائے ، یا بگڑ جائے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب التجارات / حدیث: 2148
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, الزبير بن عبيد: مجهول (تقريب: 1999) و في السند علل أخري،انظر أضواء المصابيح (2785), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 456
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 17674 ، ومصباح الزجاجة : 761 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 6/246 ) ( ضعیف ) » ( سند میں زبیر بن عبید مجہول راوی ، اور ابوعاصم کے والد مختلف فیہ راوی ہیں )