حدیث نمبر: 2144
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا اللَّهَ وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ ، فَإِنَّ نَفْسًا لَنْ تَمُوتَ حَتَّى تَسْتَوْفِيَ رِزْقَهَا ، وَإِنْ أَبْطَأَ عَنْهَا ، فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ خُذُوا مَا حَلَّ وَدَعُوا مَا حَرُمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگو ! اللہ سے ڈرو ، اور دنیا طلبی میں اعتدال کا راستہ اختیار کرو ، اس لیے کہ کوئی اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک اپنی روزی پوری نہ کر لے گو اس میں تاخیر ہو ، لہٰذا اللہ سے ڈرو ، اور روزی کی طلب میں اعتدال کا راستہ اختیار کرو ، صرف وہی لو جو حلال ہو ، اور جو حرام ہو اسے چھوڑ دو “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب التجارات / حدیث: 2144
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 2880 ، ومصباح الزجاجة : 759 ) ( صحیح ) » ( سند میں ولید بن مسلم ، ابن جریج اور ابوالزبیر تینوں مدلس راوی ہیں ، لیکن حدیث شواہد کی وجہ سے صحیح ہے ، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة ، للالبانی : 2607 )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´روزی کمانے میں میانہ روی اپنانے کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! اللہ سے ڈرو، اور دنیا طلبی میں اعتدال کا راستہ اختیار کرو، اس لیے کہ کوئی اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک اپنی روزی پوری نہ کر لے گو اس میں تاخیر ہو، لہٰذا اللہ سے ڈرو، اور روزی کی طلب میں اعتدال کا راستہ اختیار کرو، صرف وہی لو جو حلال ہو، اور جو حرام ہو اسے چھوڑ دو۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2144]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  حلال روزی کا اہتمام کرنے والا روزی سے محروم نہیں رہتا۔

(2)
  اللہ پر توکل کرتے ہوئے حرام روزی سے اجنتاب کرنا چاہیے۔

(3)
  جس طرح دنیوی زندگی کی مدت مقرر ہے، اس میں کمی بیشی نہیں ہوگی، اسی طرح رزق بھی متعین ہے لیکن انسان کو اس کی صحیح یا غلط کوشش کی وجہ سے ثواب یا گناہ حاصل ہو جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2144 سے ماخوذ ہے۔