سنن ابن ماجه
كتاب التجارات— کتاب: تجارت کے احکام و مسائل
بَابُ : الاِقْتِصَادِ فِي طَلَبِ الْمَعِيشَةِ باب: روزی کمانے میں میانہ روی اپنانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2143
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ بِهْرَامٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ زَوْجُ بِنْتِ الشَّعْبِيِّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْظَمُ النَّاسِ هَمًّا الْمُؤْمِنُ الَّذِي يَهُمُّ بِأَمْرِ دُنْيَاهُ وَأَمْرِ آخِرَتِهِ " ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ تَفَرَّدَ بِهِ إِسْمَاعِيل .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سب سے زیادہ فکرمندی اس مومن کو ہوتی ہے جسے دنیا کی بھی فکر ہو اور آخرت کی بھی “ ۔ ابوعبداللہ ( ابن ماجہ ) کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے ، اس لیے کہ اسماعیل اس کی روایت میں منفرد ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: بے دین آدمی کو آخرت سے کوئی غرض اور دلچسپی نہیں، اسے تو صرف دنیا کی فکر ہے، اور جو کچا مسلمان ہے اس کو دونوں فکریں لگی ہوتی ہیں، کیونکہ اللہ تعالی پر اس کو پورا بھروسہ اور اعتماد نہیں ہے، اور جو پکا مسلمان ہے اس کو فقط آخرت کی ہی فکر ہے، اور دنیا کی زیادہ فکر نہیں ہوتی، اللہ تعالیٰ رازق اور مسبب الاسباب ہے، جب تک زندگی ہے، وہ کہیں سے ضرور کھلائے اور پلائے گا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´روزی کمانے میں میانہ روی اپنانے کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” سب سے زیادہ فکرمندی اس مومن کو ہوتی ہے جسے دنیا کی بھی فکر ہو اور آخرت کی بھی۔“ ابوعبداللہ (ابن ماجہ) کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، اس لیے کہ اسماعیل اس کی روایت میں منفرد ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2143]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” سب سے زیادہ فکرمندی اس مومن کو ہوتی ہے جسے دنیا کی بھی فکر ہو اور آخرت کی بھی۔“ ابوعبداللہ (ابن ماجہ) کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، اس لیے کہ اسماعیل اس کی روایت میں منفرد ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2143]
اردو حاشہ:
فائده:
یہ روایت ضعیف ہے، تاہم یہ بات صحیح ہے کہ مومن کو سب سے زیادہ فکر آخرت کے معاملات کی ہوتی ہے اور اسی کو وہ سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے۔
اگر اس کے پاس دنیا کے وسائل کی کمی بھی ہو تو وہ اس کی فکر میں کرتا، لیکن کافر کو صرف دنیا کا خیال ہوتا ہے کیونکہ اسے آخرت پر یقین نہیں ہوتا، جب کہ کمزور ایمان والا مومن دنیا کے معاملات میں بھی پریشان رہتا ہے اور اسےآخرت ملنے یا نیکیوں میں پیچے رہ جانے کا خوف بھی ہوتا ہے۔
اس طرح وہ دو قسم کی پریشانیاں لیے پھرتا ہے۔
فائده:
یہ روایت ضعیف ہے، تاہم یہ بات صحیح ہے کہ مومن کو سب سے زیادہ فکر آخرت کے معاملات کی ہوتی ہے اور اسی کو وہ سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے۔
اگر اس کے پاس دنیا کے وسائل کی کمی بھی ہو تو وہ اس کی فکر میں کرتا، لیکن کافر کو صرف دنیا کا خیال ہوتا ہے کیونکہ اسے آخرت پر یقین نہیں ہوتا، جب کہ کمزور ایمان والا مومن دنیا کے معاملات میں بھی پریشان رہتا ہے اور اسےآخرت ملنے یا نیکیوں میں پیچے رہ جانے کا خوف بھی ہوتا ہے۔
اس طرح وہ دو قسم کی پریشانیاں لیے پھرتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2143 سے ماخوذ ہے۔