سنن ابن ماجه
كتاب التجارات— کتاب: تجارت کے احکام و مسائل
بَابُ : الاِقْتِصَادِ فِي طَلَبِ الْمَعِيشَةِ باب: روزی کمانے میں میانہ روی اپنانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2142
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَجْمِلُوا فِي طَلَبِ الدُّنْيَا ، فَإِنَّ كُلًّا مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دنیا کی طلب میں اعتدال کا طریقہ اپناؤ اس لیے کہ جس چیز کے لیے آدمی پیدا کیا گیا ہے وہ اسے مل کر رہے گی “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی کمانے کے چکر میں زیادہ نہ پڑو، آدمی کے مقدر (قسمت) میں جو چیز اللہ تعالی نے لکھ دی ہے، وہ اسے مل کر رہے گی، تو بے اعتدالی اور ظلم کی کوئی ضرورت نہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´روزی کمانے میں میانہ روی اپنانے کا بیان۔`
ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” دنیا کی طلب میں اعتدال کا طریقہ اپناؤ اس لیے کہ جس چیز کے لیے آدمی پیدا کیا گیا ہے وہ اسے مل کر رہے گی “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2142]
ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” دنیا کی طلب میں اعتدال کا طریقہ اپناؤ اس لیے کہ جس چیز کے لیے آدمی پیدا کیا گیا ہے وہ اسے مل کر رہے گی “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2142]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
دنیا کمانے کے لیے اچھا طریقہ اختیار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ حلال کمانے کی کوشش کرو اور اس میں ہمہ تن مشغول نہ ہو جاؤ کہ آخرت کی طرف توجہ نہ رہے، یعنی اعتدال کا راستہ اختیار کرو۔
(2)
جو روزی قسمت میں لکھى ہوئی ہے، وہ حلال راستہ اختیار کرنے سے بھی مل ہی جائے گی، پھر ناجائز اور حرام راستے سے تلاش کرنے کا کیا فائدہ؟
فوائد و مسائل:
(1)
دنیا کمانے کے لیے اچھا طریقہ اختیار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ حلال کمانے کی کوشش کرو اور اس میں ہمہ تن مشغول نہ ہو جاؤ کہ آخرت کی طرف توجہ نہ رہے، یعنی اعتدال کا راستہ اختیار کرو۔
(2)
جو روزی قسمت میں لکھى ہوئی ہے، وہ حلال راستہ اختیار کرنے سے بھی مل ہی جائے گی، پھر ناجائز اور حرام راستے سے تلاش کرنے کا کیا فائدہ؟
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2142 سے ماخوذ ہے۔