حدیث نمبر: 2139
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا كُلْثُومُ بْنُ جَوْشَنٍ الْقُشَيْرِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " التَّاجِرُ الْأَمِينُ الصَّدُوقُ الْمُسْلِمُ مَعَ الشُّهَدَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سچا ، امانت دار مسلمان تاجر قیامت کے دن شہداء کے ساتھ ہو گا “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: تجارت کے ساتھ سچائی اور امانت داری بہت مشکل کام ہے، اکثر تاجر جھوٹ بولتے ہیں اور سودی لین دین کرتے ہیں، تو کوئی تاجر سچا امانت دار، متقی اور پرہیزگار ہو گا تو اس کو شہیدوں کا درجہ ملے گا، اس لئے کہ جان کے بعد آدمی کو مال عزیز ہے، بلکہ بعض مال کے لئے جان گنواتے ہیں جیسے شہید نے اپنی جان اللہ کی راہ میں قربان کی، ایسے ہی متقی تاجر نے اللہ تعالی کی راہ میں دولت خرچ کی، اور حرام کا لالچ نہ کیا۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب التجارات / حدیث: 2139
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, ضعيف, كلثوم بن جوشن: ضعيف(تقريب: 5655), وللحديث شاهد ضعيف عند الترمذي (1209), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 456
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 7598 ، ومصباح الزجاجة : 755 ) ( حسن صحیح ) ( تراجع الألبانی : رقم : 248 ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´روزی کمانے کی ترغیب۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سچا، امانت دار مسلمان تاجر قیامت کے دن شہداء کے ساتھ ہو گا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2139]
اردو حاشہ:
یہ حدیث جامع ترمذی میں حضرت ابو سعید ؓسے مروی ہے۔
امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔ (جامع الترمذي، البیوع، باب ماجاء عن التجار۔
۔
۔
، حدیث: 1209)
یہ روایت اگرچہ ضعیف ہے تاہم امانت و دیانت اور سچائی کے ساتھ تجارت کرنا بہت فضیلت والا عمل اور نہایت باعث برکت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2139 سے ماخوذ ہے۔