سنن ابن ماجه
كتاب الكفارات— کتاب: قسم اور کفاروں کے احکام و مسائل
بَابُ : مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ نَذْرٌ باب: جو شخص مر جائے اور اس کے ذمہ نذر ہو تو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2133
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ ، وَعَلَيْهَا نَذْرُ صِيَامٍ ، فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِيَصُمْ عَنْهَا الْوَلِيُّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ، اور اس نے کہا : میری ماں کا انتقال ہو گیا ، اور ان کے ذمہ روزوں کی نذر تھی ، اور وہ اس کی ادائیگی سے پہلے وفات پا گئیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان کا ولی ان کی جانب سے روزے رکھے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ میت کی طرف سے نذر کا روزہ ہو یا نماز اس کا ولی رکھ سکتا ہے جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک عورت کو جس کی ماں نے قبا میں نماز پڑھنے کی نذر مانی تھی اور وہ مر گئی تھی، حکم دیا کہ تم اس کی طرف سے پڑھ لو۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جو شخص مر جائے اور اس کے ذمہ نذر ہو تو اس کے حکم کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور اس نے کہا: میری ماں کا انتقال ہو گیا، اور ان کے ذمہ روزوں کی نذر تھی، اور وہ اس کی ادائیگی سے پہلے وفات پا گئیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ان کا ولی ان کی جانب سے روزے رکھے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2133]
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور اس نے کہا: میری ماں کا انتقال ہو گیا، اور ان کے ذمہ روزوں کی نذر تھی، اور وہ اس کی ادائیگی سے پہلے وفات پا گئیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ان کا ولی ان کی جانب سے روزے رکھے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2133]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے اور مزید لکھا ہے کہ اس سے بخاری (1952)
و مسلم (1147)
کی روایت کفایت کرتی ہے۔
غالباً اسی وجہ سے دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: (صحیح سنن أبي داؤد (مفصل)
، رقم: 2077، و سنن ابن ماجة بتحقیق الدکتور بشار عواد، حدیث: 2133)
لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی وجہ سے قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے اور مزید لکھا ہے کہ اس سے بخاری (1952)
و مسلم (1147)
کی روایت کفایت کرتی ہے۔
غالباً اسی وجہ سے دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: (صحیح سنن أبي داؤد (مفصل)
، رقم: 2077، و سنن ابن ماجة بتحقیق الدکتور بشار عواد، حدیث: 2133)
لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی وجہ سے قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2133 سے ماخوذ ہے۔