سنن ابن ماجه
كتاب الكفارات— کتاب: قسم اور کفاروں کے احکام و مسائل
بَابُ : مَنْ نَذَرَ نَذْرًا وَلَمْ يُسَمِّهِ باب: جس نے نذر مانی لیکن یہ نہیں بتایا کہ وہ کس چیز کی نذر ہے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 2127
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ رَافِعٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ نَذَرَ نَذْرًا وَلَمْ يُسَمِّهِ فَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے نذر مانی ، اور اس کی تعیین نہ کی تو اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جس نے نذر مانی لیکن یہ نہیں بتایا کہ وہ کس چیز کی نذر ہے تو کیا کرے؟`
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جس نے نذر مانی، اور اس کی تعیین نہ کی تو اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے۔" [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2127]
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جس نے نذر مانی، اور اس کی تعیین نہ کی تو اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے۔" [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2127]
اردو حاشہ:
فائدہ: تعین نہ کرنا اور نام نہ لینا اس طرح ہے کہ کہے: میرے ذمے اللہ کے لیے نذر ہے۔
فائدہ: تعین نہ کرنا اور نام نہ لینا اس طرح ہے کہ کہے: میرے ذمے اللہ کے لیے نذر ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2127 سے ماخوذ ہے۔