حدیث نمبر: 2127
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ رَافِعٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ نَذَرَ نَذْرًا وَلَمْ يُسَمِّهِ فَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے نذر مانی ، اور اس کی تعیین نہ کی تو اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الكفارات / حدیث: 2127
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح دون قوله ولم يسمه , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 9923 ) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/النذر 5 ( 1645 ) ، سنن ابی داود/الأیمان 31 ( 3323 ) ، سنن الترمذی/الأیمان 4 ( 1528 ) ، سنن النسائی/الأیمان 40 ( 3863 ) ، مسند احمد ( 4/144 ، 146 ، 147 ) ( صحیح ) دون قولہ ''اذا لم یسمّہ'' من غیر ھذا السند وأما ھذا السند فضعیف لأجل إسماعیل بن رافع ( ملاحظہ ہو : إلارواء : 2586 ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جس نے نذر مانی لیکن یہ نہیں بتایا کہ وہ کس چیز کی نذر ہے تو کیا کرے؟`
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جس نے نذر مانی، اور اس کی تعیین نہ کی تو اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے۔‏‏‏‏" [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2127]
اردو حاشہ:
فائدہ: تعین نہ کرنا اور نام نہ لینا اس طرح ہے کہ کہے: میرے ذمے اللہ کے لیے نذر ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2127 سے ماخوذ ہے۔