سنن ابن ماجه
كتاب الكفارات— کتاب: قسم اور کفاروں کے احکام و مسائل
بَابُ : مَنْ وَرَّى فِي يَمِينِهِ باب: جو کوئی قسم میں توریہ کرے اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 2120
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا الْيَمِينُ عَلَى نِيَّةِ الْمُسْتَحْلِفِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قسم کا اعتبار صرف قسم دلانے والے کی نیت پر ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: گو قسم کھانے والا دوسرا کچھ مطلب رکھ کر قسم کھائے یعنی توریہ کرے تو اس کا توریہ اس کو مفید نہ ہو گا بلکہ جھوٹی قسم کا وبال اس پر ہو گا، اس حدیث کا محل یہ ہے کہ جب کوئی شخص قسم کھا کر دوسرے کا حق دبانا چاہے اور اگلی حدیث کا محل یہ ہے کہ جب کسی مسلمان کی ظالم کے ظلم سے جان یا عزت بچانی مقصود ہو، اور دونوں قسموں میں منافات نہ ہو گی۔ امام احمد رحمہ اللہ کا قول اس حدیث کے موافق ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1653 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قسم میں قسم لینے والے کی نیت کا اعتبار ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4284]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے، اگر کوئی آدمی کسی نیت کی بنا پر جائز طور پر قسم اٹھواتا ہے، تو ایسی صورت میں قسم اٹھوانے والے کی نیت اور اس کے معنی و مفہوم کا اعتبار ہوگا، قسم اٹھانے والا، اگر قسم کا توریہ یا تعریض کرتا ہے، تو اس کا اعتبار نہیں ہوگا، اگر یہ قسم عدالت کے لیے اٹھائی گئی ہے، تو پھر اس میں فقہاء کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے، اگر قسم لینا جائز تھا، اور قسم عدالت میں، اللہ تعالیٰ یا اس کی صفات کی اٹھائی گئی ہے، تو اس میں قاضی یا اس کے نائب کی نیت و قصد معتبر ہوگا، اور اگر قسم لینے والا، عدالت کی بجائے، خود قسم لیتا ہے، اور ظلم و زیادتی کا ارتکاب کرنا چاہتاہے، تو پھر سنن ابی داود کی روایت کی روشنی میں، توریہ و تعریض سے کام لینا جائزہے، آپ کو بتایا گیا، کہ ہم آپ کے پاس آرہے تھے، تو حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کو ان کے دشمنوں نے پکڑ لیا، تو ان میں سے حضرت سوید بن غفلہ نے قسم اٹھائی کہ یہ میرا (دینی)
بھائی ہے، اس پر دشمن نے انہیں چھوڑدیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سوید رضی اللہ عنہ کو فرمایا، تم نے سچ بولا، مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے، اس سے ثابت ہوا، اگر قسم لینے والا، ظلم و زیادتی کا مرتکب ہو، تو پھر توریہ جائز ہے، تفصیلات کے لیے (المغنی، ج (13)
ص 497 تا 501، مسلہ نمبر (1803)
دکتور ترکی۔
اور بقول علامہ نووی اگر حالف سے طلاق یا غلام آزاد کرنے کی قسم اٹھوائی گئی، تو پھر قسم اٹھانے والے کی نیت کا اعتبار ہو گا، یعنی وہ توریہ و تعریض سے کام لے سکے گا، علامہ تقی نے احناف کا بھی یہی موقف بتایا ہے لیکن علامہ سعیدی نے اس کی مخالفت کی ہے، اور کہا ہے، فقہاء کے احناف کے نزدیک اگر کسی شخص کے حق میں قسم لی گئی ہے، تو حلف لینے والے کی نیت کا اعتبار رہے گا، خواہ اللہ کی قسم لی جائے یا طلاق اور عتاق کی، اور جب کوئی خود قسم اٹھائے تو اس کی نیت کا اعتبار ہو گا اور وہ تاویل اور توریہ کر سکتا ہے، اور آخر میں لکھا ہے، اس مسئلہ میں علامہ ابن قدامہ حنبلی نے جو بحث کی ہے، وہی حق اور صحیح ہے۔
(شرح مسلم سعیدی، ج 4، ص 587)
بھائی ہے، اس پر دشمن نے انہیں چھوڑدیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سوید رضی اللہ عنہ کو فرمایا، تم نے سچ بولا، مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے، اس سے ثابت ہوا، اگر قسم لینے والا، ظلم و زیادتی کا مرتکب ہو، تو پھر توریہ جائز ہے، تفصیلات کے لیے (المغنی، ج (13)
ص 497 تا 501، مسلہ نمبر (1803)
دکتور ترکی۔
اور بقول علامہ نووی اگر حالف سے طلاق یا غلام آزاد کرنے کی قسم اٹھوائی گئی، تو پھر قسم اٹھانے والے کی نیت کا اعتبار ہو گا، یعنی وہ توریہ و تعریض سے کام لے سکے گا، علامہ تقی نے احناف کا بھی یہی موقف بتایا ہے لیکن علامہ سعیدی نے اس کی مخالفت کی ہے، اور کہا ہے، فقہاء کے احناف کے نزدیک اگر کسی شخص کے حق میں قسم لی گئی ہے، تو حلف لینے والے کی نیت کا اعتبار رہے گا، خواہ اللہ کی قسم لی جائے یا طلاق اور عتاق کی، اور جب کوئی خود قسم اٹھائے تو اس کی نیت کا اعتبار ہو گا اور وہ تاویل اور توریہ کر سکتا ہے، اور آخر میں لکھا ہے، اس مسئلہ میں علامہ ابن قدامہ حنبلی نے جو بحث کی ہے، وہی حق اور صحیح ہے۔
(شرح مسلم سعیدی، ج 4، ص 587)
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1653 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3255 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´قسم کھانے میں توریہ کرنا یعنی اصل بات چھپا کر دوسری بات ظاہر کرنا کیسا ہے؟`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تمہاری قسم کا اعتبار اسی چیز پر ہو گا جس پر تمہارا ساتھی تمہاری تصدیق کرے۔“ مسدد کی روایت میں: «أخبرني عبد الله بن أبي صالح» ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عباد بن ابی صالح اور عبداللہ بن ابی صالح دونوں ایک ہی ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3255]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تمہاری قسم کا اعتبار اسی چیز پر ہو گا جس پر تمہارا ساتھی تمہاری تصدیق کرے۔“ مسدد کی روایت میں: «أخبرني عبد الله بن أبي صالح» ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عباد بن ابی صالح اور عبداللہ بن ابی صالح دونوں ایک ہی ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3255]
فوائد ومسائل:
مسلمانوں کے درمیان آپس میں تنازعات کے فیصلوں کے لئے اشارات وتعریضآات(توریے)سے قسم اٹھانا کسی طرح مفید مطلب نہیں۔
بلکہ ناجائز ہے۔
البتہ کفار یا ظالموں سے آویزش ہو تو رخصت ہے۔
مسلمانوں کے درمیان آپس میں تنازعات کے فیصلوں کے لئے اشارات وتعریضآات(توریے)سے قسم اٹھانا کسی طرح مفید مطلب نہیں۔
بلکہ ناجائز ہے۔
البتہ کفار یا ظالموں سے آویزش ہو تو رخصت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3255 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2121 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´جو کوئی قسم میں توریہ کرے اس کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تمہاری قسم اسی مطلب پر واقع ہو گی جس پر تمہارا ساتھی تمہاری تصدیق کرے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2121]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تمہاری قسم اسی مطلب پر واقع ہو گی جس پر تمہارا ساتھی تمہاری تصدیق کرے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2121]
اردو حاشہ:
فائدہ: اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر قسم کھا کر ذو معنی بات کہی اور ایسا معنی مراد لیا جو سچ تھا لیکن مخاطب اس سے وہ معنی نہیں سمجھا اور جو معنی مخاطب نے سمجھا اس کے لحاظ سے بات غلط تھی تو یہ جھوٹی قسم ہو گی۔
قسم کا وہی مفہوم معتبر ہو گا جو قسم دلانے والا سمجھتا ہے۔
فائدہ: اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر قسم کھا کر ذو معنی بات کہی اور ایسا معنی مراد لیا جو سچ تھا لیکن مخاطب اس سے وہ معنی نہیں سمجھا اور جو معنی مخاطب نے سمجھا اس کے لحاظ سے بات غلط تھی تو یہ جھوٹی قسم ہو گی۔
قسم کا وہی مفہوم معتبر ہو گا جو قسم دلانے والا سمجھتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2121 سے ماخوذ ہے۔