حدیث نمبر: 2118
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَأَى فِي النَّوْمِ ، أَنَّهُ لَقِيَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ : فَقَالَ : نِعْمَ ، الْقَوْمُ أَنْتُمْ لَوْلَا أَنَّكُمْ تُشْرِكُونَ ، تَقُولُونَ : مَا شَاءَ اللَّهُ ، وَشَاءَ مُحَمَّدٌ وَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَمَا وَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَعْرِفُهَا لَكُمْ قُولُوا : مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ شَاءَ مُحَمَّدٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` مسلمانوں میں سے ایک شخص نے خواب میں دیکھا کہ وہ اہل کتاب کے ایک شخص سے ملا تو اس نے کہا : تم کیا ہی اچھے لوگ ہوتے اگر شرک نہ کرتے ، تم کہتے ہو : جو اللہ چاہے اور محمد چاہیں ، اس مسلمان نے یہ خواب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کی قسم ! میں اس بات کو جانتا ہوں ( کہ ایسا کہنے میں شرک کی بو ہے ) ۔ لہٰذا تم «ما شاء الله ثم شاء محمد» ” جو اللہ چاہے پھر محمد چاہیں “ کہو ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی اللہ کے بعد محمد کو رکھو تو حرج نہیں اس لئے کہ اللہ کے برابر کوئی نہیں، سب اس کے بندے اور غلام ہیں، جب نبی کریم ﷺ نے اپنی نسبت ایسا کہنے سے منع فرمایا تو اب کسی ولی، پیر و مرشد اور فقیر و درویش کی کیا بساط ہے کہ وہ کسی کام کے کرنے یا ہونے یا نہ ہونے میں اللہ کے نام کے ساتھ شریک ہو جائے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الكفارات / حدیث: 2118
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, ضعيف, عبدالملك بن عمير عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 455
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تجفة الأشراف : 3318 ، ومصباح الزجاجة : 747 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 3935 ) ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´یوں کہنا منع ہے جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں۔`
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے خواب میں دیکھا کہ وہ اہل کتاب کے ایک شخص سے ملا تو اس نے کہا: تم کیا ہی اچھے لوگ ہوتے اگر شرک نہ کرتے، تم کہتے ہو: جو اللہ چاہے اور محمد چاہیں، اس مسلمان نے یہ خواب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں اس بات کو جانتا ہوں (کہ ایسا کہنے میں شرک کی بو ہے)۔ لہٰذا تم «ما شاء الله ثم شاء محمد» جو اللہ چاہے پھر محمد چاہیں کہو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2118]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  ’’جو اللہ تعالیٰ، پھر حضرت محمدﷺ چاہیں۔‘‘
اس کا مطلب یہ ہے کہ جو اللہ چاہے گا صرف وہی ہوگا۔
دوسرے شخص کی مشیت اللہ کے تابع ہے۔
بہ یک وقت دونوں (خالق و مخلوق)
کی مشیت کو ایک قرار دینا واقعی شرک ہے۔
لیکن نبیﷺ کی اصلاح کے بعد شرک کا شائبہ ختم ہو گا اسی لیے یہ ورایت بعض کے نزدیک حسن اور بعض کے نزدیک صحیح ہے۔

(2)
  ایسے الفاظ سے اجتناب کرنا چاہیے جن کا مناسب مفہوم بن سکتا ہو۔

(3)
  شرعی مسائل خواب سے ثابت نہیں ہوتے لیکن اگر خواب میں کوئی ایسا اشارہ ملے جو قرآن و حدیث کی تعلیمات کے منافی نہ ہو تو اس پر عمل کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

(4)
  صحابہ کرام رضی رضی اللہ عنہم اپنے خواب نبی اکرم ﷺ کو سناتے تھے تاکہ اس کی تعبیر مل جائے اور یہ معلوم ہو جائے کہ خواب کی یہ بات ماننے کے قابل ہے یا نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2118 سے ماخوذ ہے۔