سنن ابن ماجه
كتاب الكفارات— کتاب: قسم اور کفاروں کے احکام و مسائل
بَابُ : مَنْ قَالَ كَفَّارَتُهَا تَرْكُهَا باب: بری قسم کا کفارہ اسے چھوڑ دینا ہے۔
حدیث نمبر: 2110
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ أَبِي الرِّجَالِ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ فِي قَطِيعَةِ رَحِمٍ ، أَوْ فِيمَا لَا يَصْلُحُ فَبِرُّهُ أَنْ لَا يُتِمَّ عَلَى ذَلِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے رشتہ توڑنے کی قسم کھائی ، یا کسی ایسی چیز کی قسم کھائی جو درست نہیں ، تو اس قسم کا پورا کرنا یہ ہے کہ اسے چھوڑ دے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´بری قسم کا کفارہ اسے چھوڑ دینا ہے۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس شخص نے رشتہ توڑنے کی قسم کھائی، یا کسی ایسی چیز کی قسم کھائی جو درست نہیں، تو اس قسم کا پورا کرنا یہ ہے کہ اسے چھوڑ دے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2110]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس شخص نے رشتہ توڑنے کی قسم کھائی، یا کسی ایسی چیز کی قسم کھائی جو درست نہیں، تو اس قسم کا پورا کرنا یہ ہے کہ اسے چھوڑ دے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2110]
اردو حاشہ:
فائدہ: مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے شواہد کی بنا پر قابل عمل اور قابل حجت قرار دیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: (الصحیحة، رقم: 2334)
اس کا مطلب یہ ہے کہ کفارہ نہ دے سکے تو کم از کم اس گناہ سے پرہیز تو کرے جس کے کرنے کا وعدہ کرلیا ہے۔
گناہ سے بچنا بھی نیکی ہے۔
فائدہ: مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے شواہد کی بنا پر قابل عمل اور قابل حجت قرار دیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: (الصحیحة، رقم: 2334)
اس کا مطلب یہ ہے کہ کفارہ نہ دے سکے تو کم از کم اس گناہ سے پرہیز تو کرے جس کے کرنے کا وعدہ کرلیا ہے۔
گناہ سے بچنا بھی نیکی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2110 سے ماخوذ ہے۔