سنن ابن ماجه
كتاب الكفارات— کتاب: قسم اور کفاروں کے احکام و مسائل
بَابُ : مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا باب: جس نے کسی بات پر قسم کھائی پھر اس کے خلاف کرنا بہتر سمجھا تو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2108
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا ، فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے قسم کھائی ، اور اس کے خلاف کرنے کو بہتر سمجھا تو جو بہتر ہو اس کو کرے ، اور اپنی قسم کا کفارہ دیدے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3816 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´قسم توڑنے کے بعد کفارہ دینے کا بیان۔`
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو کسی بات کی قسم کھائے پھر اس کے علاوہ کو اس سے بہتر پائے تو وہی کرے جو بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3816]
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو کسی بات کی قسم کھائے پھر اس کے علاوہ کو اس سے بہتر پائے تو وہی کرے جو بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3816]
اردو حاشہ: سابقہ احادیث میں کفارے کا ذکر قسم توڑنے سے پہلے تھا اور اس حدیث (اور آئندہ احادیث) میں قسم توڑنے کا ذکر پہلے ہے اور کفارے کا بعد میں۔ گویا دونوں جائز ہیں۔ کسی ایک کے ضروری ہونے کی صراحت نہیں۔ اگر کوئی ایک صورت ضروری ہوتی تو آپ صراحتاً اسے اختیار کرنے کی تلقین فرما دیتے‘ لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا۔ بہر حال یہ مسلک جمہور اہل علم کا ہے اور یہی درست ہے۔ احادیث صحیحہ پر عمل کرنا قیاسات پر عمل کرنے سے کہیں بہتر ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3816 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1651 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
تمیم بن طرفہ بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالی عنہ سے سنا، جبکہ ان کے پاس ایک آدمی سو درہم (100) مانگنے کے لیے آیا، تو انہوں نے کہا، تو مجھ سے سو (100) درہم مانگ رہا ہے، حالانکہ میں حاتم کا بیٹا ہوں؟ اللہ کی قسم! میں تمہیں نہیں دوں گا، پھر کہنے لگے، اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہ سنا ہوتا، ’’جس نے کسی کام کے لیے قسم اٹھائی، پھر اس کے سامنے بہتر سوچ آئی، تو وہ کام کرے جو بہتر ہے۔‘‘ (تو میں... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:4279]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: تسئلني مائة درهم؟ وانا ابن حاتم کا مقصد بقول امام قرطبی یہ ہے، کہ میں حاتم کا بیٹا ہوں، جو جودو سخاورت کی کثرت میں معروف و مشہور ہے، اور تم مجھ سے اس قدر کم رقم کا مطالبہ کررہے ہو، اور بقول قاضی عیاض، سائل نے حضرت عدی سے اس وقت سوال کیا، جبکہ اسے پتہ تھا کہ فی الحال ان کے پاس دینے کے لیے کچھ نہیں ہے، اور سائل کا مقصد حضرت عدی کے بخل اور کچھ دینے سے انکار کرنے کا اظہار تھا، اس لیے حضرت عدی رضی اللہ عنہ نے ناراضی کی حالت میں یہ کہا، کہ تم جان بوجھ کر مجھے رسوا کرنے کے لیے کہ حاتم کا بیٹا بخیل و کنجوس ہے، یہ سوال کر رہےہو، حالانکہ تمہیں پتہ اس وقت میرے پاس دینے کے لیے کچھ نہیں ہے، جاؤ میں اپنے گھر والوں کو لکھ دیتا ہوں، وہ تمہارا سوال پورا کر دیں، لیکن وہ اس پر راضی نہ ہوا، اس لیے انہوں نے کچھ نہ دینے کی قسم اٹھائی۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1651 سے ماخوذ ہے۔