حدیث نمبر: 2090
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ رِفَاعَةَ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَلَفَ قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´رفاعہ جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قسم کھاتے تو یہ فرماتے : «والذي نفس محمد بيده» ” قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ قسم کھانی جائز ہے، بشرطیکہ سچ بات پر کھائے، لیکن یہ ضروری ہے کہ سوائے اللہ کے نام یا اس کی صفت کے دوسرے کسی کی قسم نہ کھائے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الكفارات / حدیث: 2090
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 3612 ، ومصباح الزجاجة : 735 ) ( صحیح ) ( اس سند میں محمد بن مصعب ضعیف راوی ہیں ، لیکن یہ شواہد کی بناء پر صحیح ہے ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 2091

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2091 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم اور حلف کا بیان۔`
رفاعہ بن عرابہ جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم جو آپ کھایا کرتے تھے، یوں ہوتی تھی: «والذي نفسي بيده» قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2091]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ضرورت کے وقت مخاطب کو اپنی بات کا یقین دلانے کے لیے، یا تا کید کے لیے قسم کھانا جائز ہے۔

(2)
  قسم کے لیے جس طرح اللہ کا نام لیا جاتا ہے اسی طرح اللہ تعالی کی صفات کا بھی ذکر کیا جاتا ہے۔

(3)
قسم کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ اس بات پر گواہ ہے کہ فلاں معاملہ یوں ہے۔
اب اگر یہ بیان جھوٹ ہے تواس موقع پر اللہ کا نام لینا بہت بڑی گستاخی ہے کیوں کہ اللہ تعالی جھوٹ پرگواہ نہیں بن سکتا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2091 سے ماخوذ ہے۔