حدیث نمبر: 2073
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " فِي الْحَرَامِ يَمِينٌ وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ : " لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : حلال کو حرام کرنے میں قسم کا کفارہ ہے ، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے : «لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة» ( سورة الاحزاب : 21 ) ” تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطلاق / حدیث: 2073
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث « صحیح البخاری/تفسیر سورة الطلاق ( 4911 ) ، صحیح مسلم/الطلاق 3 ( 1473 ) ، ( تحفة الأشراف : 5648 ) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/الطلاق 16 ( 3449 ) ، مسند احمد ( 1/225 ) ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´عورت کو اپنے اوپر حرام کر لینے کے حکم کا بیان۔`
سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: حلال کو حرام کرنے میں قسم کا کفارہ ہے، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے: «لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة» (سورة الاحزاب: 21) " تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔‏‏‏‏" [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2073]
اردو حاشہ:
فائدہ: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کےفرمان کا مطلب یہ ہے کہ اس صورت میں کفارہ ادا کرنا چاہیے۔
صحیح بخاری میں یہی حدیث ان الفاظ میں مروی ہے: سعید بن جبیر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حرام کرنے کے بارے میں فرمایا: ’’کفارہ ادا کرے۔‘‘
پھرابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ آیت پڑھی: ﴿لَقَد كانَ لَكُم فى رَ‌سولِ اللَّهِ أُسوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ (صحيح البخاري، التفسير، سورة التحريم، باب: ﴿ يـأَيُّهَا النَّبِىُّ لِمَ تُحَرِّ‌مُ ما أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ﴾، حديث: 4911)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2073 سے ماخوذ ہے۔