حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ قَذَفَ امْرَأَتَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْبَيِّنَةَ أَوْ حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ " ، فَقَالَ هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنِّي لَصَادِقٌ وَلَيُنْزِلَنَّ اللَّهُ فِي أَمْرِي مَا يُبَرِّئُ ظَهْرِي ، قَالَ : فَنَزَلَتْ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلا أَنْفُسُهُمْ حَتَّى بَلَغَ وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ سورة النور آية 6 ـ 9 فَانْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمَا ، فَجَاءَا فَقَامَ هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ ، فَشَهِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ، أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ ، فَهَلْ مِنْ تَائِبٍ ثُمَّ قَامَتْ فَشَهِدَتْ " فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ الْخَامِسَةِ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ سورة النور آية 9 ، قَالُوا لَهَا : إِنَّهَا الَمُوجِبَةٌ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَتَلَكَّأَتْ وَنَكَصَتْ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهَا سَتَرْجِعُ ، فَقَالَتْ : وَاللَّهِ لَا أَفْضَحُ قَوْمِي سَائِرَ الْيَوْمِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْظُرُوهَا ، فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ الْعَيْنَيْنِ سَابِغَ الْأَلْيَتَيْنِ خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ ، فَهُوَ لِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ " فَجَاءَتْ بِهِ كَذَلِكَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا مَا مَضَى مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَكَانَ لِي وَلَهَا شَأْنٌ " .
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شریک بن سحماء کے ساتھ ( بدکاری کا ) الزام لگایا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم گواہ لاؤ ورنہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے لگیں گے ، ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے کہا : قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں بالکل سچا ہوں ، اور اللہ تعالیٰ میرے بارے میں کوئی ایسا حکم اتارے گا جس سے میری پیٹھ حد لگنے سے بچ جائے گی ، راوی نے کہا : پھر یہ آیت اتری : «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم» ” جو لوگ اپنی بیویوں کو تہمت لگاتے ہیں اور ان کے پاس اپنے سوا کوئی گواہ نہیں ہوتے... “ یہاں تک کہ اخیر آیت : «والخامسة أن غضب الله عليها إن كان من الصادقين» ( سورة النور : ۶-۹ ) تک پہنچے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے اور ہلال اور ان کی بیوی دونوں کو بلوایا ، وہ دونوں آئے ، ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور گواہیاں دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے : ” اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے ، تو کوئی ہے توبہ کرنے والا “ ، اس کے بعد ان کی بیوی کھڑی ہوئی اور اس نے گواہی دی ، جب پانچویں گواہی کا وقت آیا یعنی یہ کہنے کا کہ عورت پہ اللہ کا غضب نازل ہو اگر مرد سچا ہو تو لوگوں نے عورت سے کہا : یہ گواہی ضرور واجب کر دے گی ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہ سن کر وہ عورت جھجکی اور واپس مڑی یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ اب وہ اپنی گواہی سے پھر جائے گی ، لیکن اس نے کہا : اللہ کی قسم ! میں تو اپنے گھر والوں کو زندگی بھر کے لیے رسوا اور ذلیل نہیں کروں گی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دیکھو اگر اس عورت کو کالی آنکھوں والا ، بھری سرین والا ، موٹی پنڈلیوں والا بچہ پیدا ہو ، تو وہ شریک بن سحماء کا ہے “ ، بالآخر اسی شکل کا لڑکا پیدا ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر اللہ کی کتاب کا فیصلہ جو ہو چکا نہ ہوا ہوتا تو میں اس عورت کے ساتھ ضرور کچھ سزا کا معاملہ کرتا “ ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شریک بن سحماء کے ساتھ (بدکاری کا) الزام لگایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم گواہ لاؤ ورنہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے لگیں گے، ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں بالکل سچا ہوں، اور اللہ تعالیٰ میرے بارے میں کوئی ایسا حکم اتارے گا جس سے میری پیٹھ حد لگنے سے بچ جائے گی، راوی نے کہا: پھر یہ آیت اتری: «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم» ” جو لوگ اپنی بیویوں کو تہمت لگاتے ہیں ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2067]
فوائد و مسائل:
(1)
حضرت ہلال بن امیہ نے اللہ پر توکل کیا اور اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کیا تو اللہ نے ان کو بری کردیا۔
اس سے صحابہ کرام کا ایمان اور اللہ کی ذات پر اعتماد ظاہر ہوتا ہے۔
(2)
پانچویں گواہی کے الفاظ پہلی چارگواہیوں سے مختلف ہیں۔
اس کا مقصد ضمیر کو بیدار کرنا ہے تاکہ فریقین میں سے جو غلطی پر ہے، وہ اپنی غلطی کا اقرار کرلے اور دنیا کی سزا قبول کرکے آخرت کے عذاب سے بچ جائے۔
(3)
پانچویں قسم واجب کرنے والی ہے، یعنی واقعی اللہ کی لعنت اوراس کے غضب کی موجب ہے، لہٰذا یہ سمجھ کر قسم کھائیں کہ جھوٹے پر واقعی اللہ کی لعنت اور اس کے غضب کا نزول ہوجائے گا۔
(4)
قوم کی محبت و عصبیت انسان کو بڑے گناہ پر آمادہ کردیتی ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ اس محبت کو شریعت کی حدود کے اندر رکھا جائے۔
(5)
بعض اوقات انسان کسی دنیوی مفاد کے لیے گناہ کا ارتکاب کرتا ہے جب کہ اس مفاد کا حصول یقینی نہیں۔
اس عورت نے خاندان کو بدنامی سے بچانے کےلیے جھوٹی قسم کھائی لیکن رسول اللہﷺ کی بیان کردہ علامت کے مطابق بچہ پیدا ہونے سے وہ غلطی ظاہر ہوگئی جس کو چھپانے کےلیے اس نے اللہ کی غضب کو قبول کیا تھا۔
(6)
اس قسم کی صورت حال میں بچے کی شکل و شباہت جرم کو ثابت کرتی ہے لیکن اگر قانونی پوریشن ایسی ہوکہ سزا نہ مل سکتی ہو تو جج قانون کی حد سے تجاوز نہیں کرسکتا۔
(7)
ارشاد نبوی: ’’میرا اس عورت سے معاملہ (دوسرا)
ہوتا۔‘‘
یعنی اس عورت کا جرم دار ہونا تو یقینی ہے لیکن چونکہ لعان کے بعد سزا نہیں دی جا سکتی، اس لیے اسے چھوڑ دیا ہے، ورنہ اسے ضروررجم کروا دیا جاتا۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے مذکورہ احادیث میں دو واقعات سے ثابت کیا ہے کہ محض آثارو قرائن سے کسی کو سزا نہیں دی جا سکتی کیونکہ حد جاری کرنے کے لیے اقرار یا دو ٹوک ثبوت کی ضرورت ہوتی ہے، چنانچہ پہلی حدیث میں ایک عورت کا ذکر ہے جس کے اسلام لانے کے بعد بھی اس کی بدکرداری کا چرچہ زبان زدخاص وعام تھا لیکن اس کے شواہد موجود نہیں تھے اور نہ اس کا اقررار ہی سامنے آیا، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر حد جاری نہیں کی۔
اسی طرح وہ عورت جس کے متعلق اس کے خاوند نے شکوک وشبہات کا اظہار کیا، پھر بچے کی پیدائش کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ خاوند اپنے دعوے میں سچا تھا لیکن اس پر کوئی گواہ نہیں تھے اور نہ عورت نے اقرار ہی کیا، اس لیے اس پر بھی حد جاری نہ کی گئی۔
واللہ أعلم
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بات اور تھی۔
ممکن ہے آپ کو وحی سے یہ معلوم ہوگیا ہو کہ اس عورت نے زنا کیا ہے۔
اکثر مفسرین نے لعان کی آیت کا شان نزول ہلال بن امیہ کے بارے میں بتلایا ہے۔
1۔
حدیث 4745 سے معلوم ہوا تھا کہ آیت لعان کا تعلق عویمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے جبکہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت لعان حضرت ہلال بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے اس کا یوں جواب دیا ہے۔
آیات کا نزول تو ہلال امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں ہوا ہے اس کے بعد حضرت عویمر عجلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایسا واقعہ پیش آگیا اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسے پیش کردیا۔
ممکن ہے کہ انھیں حضرت ہلال بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے واقعے کا علم نہ ہو۔
2۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمھارے معاملے کا فیصلہ یہ ہے اس کا قرینہ یہ ہے کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے واقعے میں یہ الفاظ ہیں کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نازل ہوئے اور یہ آیات پڑھ کر سنائیں جبکہ حضرت عویمر عجلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے واقعے میں یہ الفاظ ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے تیرے متعلق حکم نازل فرمایا ہے جس کا یہ مفہوم ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمھارے واقعے جیسے ایک واقعے میں اس کا حکم نازل فرمادیا ہے۔
(فتح الباري: 572/8)
3۔
واضح رہے کہ رجم چار گواہوں کی گواہی یا اقرارکے بغیر نہیں ہو سکتا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ کچھ اور ہے ممکن ہے کہ آپ کو بذریعہ وحی معاملے کی حقیقت معلوم ہوگئی ہو کہ اس عورت نے واقعی بد کاری کا ارتکاب کیا ہے۔
واللہ اعلم۔
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کا مطلب صرف یہ نہیں تھا کہ ان میں سے ایک کی سچائی کا ثبوت مل جائے بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ بچہ جنم دینے سے شکوک و شبہات دور ہوجائیں اور معاملہ واضح ہو جائے تاکہ اس سے ان لوگوں کو تنبیہ ہو جو اس قسم کی بے حیائی کا ارتکاب کرتے ہیں۔
(2)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ لعان وضع حمل کے بعد واقع ہوا جبکہ گزشتہ حدیث سے معلوم ہوتا تھا کہ وضع حمل سے پہلے لعان ہو چکا تھا۔
ممکن ہے کہ لعان تہمت کے وقت بھی ہو۔
پھر جب بیٹے کی نفی کی گئی تو دوبارہ عمل میں لایا گیا ہو لیکن یہ احتمال بہت بعید معلوم ہوتا ہے۔
قرین قیاس یہی معلوم ہوتا ہے کہ حمل کے بعد اور وضع حمل سے پہلے لعان ہوا۔
واللہ أعلم
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علامات و نشانات دیکھنے کے باوجود اس عورت کو رجم نہیں کیا کیونکہ اس نے لعان کر کے اپنا دفاع کر لیا تھا۔
امام بخاری رحمہ اللہ کا مقصد بھی یہی ہے کہ اگر عورت کی طرف سے لعان عمل میں آ جاتا ہے تو اس پر کسی قسم کی سزا لاگو نہیں ہوگی کیونکہ گواہوں کے بغیر کسی پر حد لگانا شریعت میں جائز نہیں، ہاں، اگر اعتراف کر لیتی تو ضرور اسے رجم کیا جاتا۔
ایک دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر اس عورت نے سرمگیں آنکھوں والا، موٹے موٹے سرینوں والا اور گوشت سے بھری ہوئی پنڈلیوں والا بچہ جنم دیا تو وہ شریک بن سحماء کا ہے جس کے متعلق اس کے خاوند نے نشاندہی کی تھی کہ اسے اپنی بیوی کے ساتھ پایا ہے، چنانچہ عورت نے انھی اوصاف کے مطابق بچہ جنم دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر اللہ کا فیصلہ نہ ہو چکا ہوتا تو میں اسے ضرور سزادیتا۔
‘‘ (صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4747، و فتح الباري: 572/9) (2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کے معنی بیان کیے ہیں کہ اگر لعان نہ ہوتا جس نے اس عورت سے حد کو دور کر دیا ہے تو میں ضرور اس پر حد قائم کرتا کیونکہ وہ شبہ ظاہر ہو چکا ہے جس کے متعلق عورت پر الزام لگایا گیا تھا۔
واللہ أعلم
حدیث سے یہ نکلا کہ پہلے مرد سے گواہی لینی چاہیئے۔
امام شافعی اور اکثر علماء کا یہی قول ہے۔
اگر عورت سے پہلے گواہی لی جائے تب بھی لعان درست ہو جائے گا۔
کہتے ہیں اس عورت نے پانچویں بار میں ذرا تامل کیا۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہم سمجھے کہ وہ اپنے قصور کا اقرار کرے گی مگر پھر کہنے لگی میں اپنی قوم کو ساری عمر کے لیے ذلیل نہیں کر سکتی اور اس نے پانچویں دفعہ بھی قسم کھا کر لعان کر دیا۔
(1)
ایک روایت میں ہے کہ عورت پانچویں قسم کے موقع پر ذرا ٹھہر گئی تو ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ہم سمجھے کہ وہ اپنے قصور کا اعتراف کرے گی مگر وہ کہنے لگی: میں اپنی قوم کو ساری عمر کے لیے ذلیل اور رسوا نہیں کرنا چاہتی، چنانچہ اس نے پانچویں قسم اٹھا کر لعان مکمل کر دیا۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4747) (2)
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس عنوان سے بھی ایک مشہور اختلاف کی طرف اشارہ کیا ہے کہ لعان کرتے وقت پہلے مرد کو آگے آنا چاہیے یا عورت بھی پہل کر سکتی ہے؟ ہمارے رجحان کے مطابق لعان کی ابتدا مرد سے ہونی چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسی طرح بیان کیا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق کار بھی یہی تھا کہ پہلے مرد لعان کرتا، پھر عورت سے قسمیں لی جاتیں جیسا کہ جمہور اہل علم کا موقف ہے لیکن اگر عورت سے لعان کا آغاز ہوا تو بھی لعان صحیح ہے اگرچہ خلاف سنت ہوگا۔
واللہ أعلم
ہلال بن امیہ کے سامنے اس کا اپنا چشم دید واقعہ تھا اور خود اپنی بیوی کا معاملہ تھا، دوسری طرف ارشاد رسول پاک ﷺ کہ شرعی قانون کے تحت چار گواہ پیش کرو، اس نے حیران و پریشان ہو کر یہ بات کہی جو حدیث میں مذکور ہے۔
آخر اللہ پاک نے اس مشکل کا حل لعان کی صورت میں خود ہی پیش فرمایا اور رسول کریم ﷺ نے لعان کے متعلق مفصل حدیث ارشاد فرمائی۔
اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ جملہ احادیث نبوی کا اصل ماخذ قرآن کریم ہی ہے، اس حقیقت کے پیش نظر قرآن مجید متن ہے اور حدیث نبوی اس کی شرح ہے جو لوگ محض قرآن مجید پر عمل کرنے کا نعرہ بلند کرتے اور احادیث نبوی کی تکذیب کرتے ہیں یہ شیطانی فریب میں گرفتار اور گمراہی کے عمیق غار میں گرچکے ہیں۔
جن کا نتیجہ ہلاکت، تباہی، گمراہی اور دوزخ ہے۔
خدا کی مار ان لوگو ں پر جو قرآن مجید اور حدیث نبوی میں تضاد ثابت کریں۔
قرآن پر ایمان کا دعویٰ کریں اور حدیث کا انکار کریں ﴿قَاتَلَهُمُ اللَّهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ﴾ (التوبة: 30)
انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو فتنہ انکار حدیث کے بانی وہ لوگ ہیں جنہوں نے احادیث نبوی کو ظنیات کے درجہ میں رکھ کر ان کی اہمیت کو گرادیا۔
حدیث نبوی جو بسند صحیح ثابت ہواس کو محض ظن کہہ دینا بہت بڑی جرات ہے۔
اللہ ان فقہاءپر رحم کرے جو اس تخفیف حدیث کے مرتکب ہوئے جنہوں نے فتنہ انکار حدیث کا دروازہ کھول دیا۔
اللہ پاک ہر مسلمان کو صراط مستقیم نصیب کرے۔
آمین۔
(1)
دعویٰ کرنے یا کسی پر زنا کی تہمت لگانے کے بعد اگر مدعی کے پاس فوری طور پر گواہ نہ ہوں تو اسے اس قدر مہلت دی جائے کہ وہ گواہ تلاش کر کے عدالت میں پیش کر سکے۔
اس سے فوراً گواہوں کی پیشی کا مطالبہ نہ کیا جائے۔
(2)
حدیث میں میاں بیوی سے متعلق ایک معاملے کا ذکر ہے جبکہ عنوان عام ہے لیکن یہ آیاتِ لعان نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے۔
اس وقت شوہر اور اجنبی برابر تھے، پھر جب تہمت لگانے والے کے لیے یہ حکم ثابت ہوا تو ہر مدعی کے لیے بطریق اولیٰ ثابت ہوا، لیکن اجنبی ہو تو گواہ تلاش کرنے کی مہلت نہ دی جائے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ دوڑا جائے، اس لیے بہتر ہے کہ اسے قید کر دیا جائے۔
امام بخاری ؒ نے تہمت لگانے والے کے لیے یہ مہلت بطریق نص ثابت کی ہے جبکہ دوسرے مدعیوں کے لیے بطریق قیاس یہ سہولت دی جائے۔
اس حدیث سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ لعان بچہ جننے کے بعد ہوا۔
لیکن دوسری روایات سے یہ ثابت ہے کہ لعان پہلے ہوا تھا۔
2۔
کسی عورت کو فحش گفتگو یا حرکات سے زنا کے ثبوت کے بغیر رجم نہیں کیا جا سکتا۔
اس لیے آپﷺ نے اس عورت پر محض قرائن اور تشہیر سے حد نافذ نہیں فرمائی۔
3۔
حضرت عاصم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب پہلی مرتبہ حضرت عویمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پوچھنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا تھا، اس وقت ان کو واقعہ کا پتا نہیں تھا، آیات کے نزول کے بعد انہیں پتا چلا۔
کیونکہ عویمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتا دیا تھا۔
اور یہ تینوں افراد عویمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کی بیوی اور جس سے اس نے زنا کیا تھا، تینوں ان کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔
اس لیے کہا میں یہ مسئلہ پوچھنے پر اس واقعہ سے دوچار ہوا ہوں۔
معلوم ہوتا ہے ہلال بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عویمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ دونوں کی بیویوں کے ساتھ شریک بن سحماء ہی ملوث تھا۔
(فتح الباری ج9ص555 مکتبہ دارالسلام)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ زنا کی تہمت لگائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” گواہ لاؤ ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد جاری ہو گی، ہلال نے کہا: جب ہم میں سے کوئی کسی شخص کو اپنی بیوی سے ہمبستری کرتا ہوا دیکھے گا تو کیا وہ گواہ ڈھونڈتا پھرے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے رہے کہ تم گواہ پیش کرو ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد جاری ہو گی۔ ہلال نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں سچا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ می۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3179]
وضاحت:
1؎:
یعنی میں اس پر حد جاری کر کے ہی رہتا۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت دونوں کو لعان کا حکم فرمایا تو ایک شخص کو حکم دیا کہ پانچویں بار میں اپنا ہاتھ مرد کے منہ پر رکھ دے اور کہے: یہ (عذاب کو) واجب کرنے والا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2255]
قاضی کو چاہیے کہ موقع بموقع فریقین کو قسم کے اقدام سے باز رہنے کی تلقین کرے کیونکہ دنیا کی عار اور یہاں کی سزا تو عارضی ہے مگر اللہ کی لعنت اور غضب دائمی ہے۔
لاحول ولا قوة إلا بالله۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عجلانی اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کرایا اور اس وقت اس کی بیوی حاملہ تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3497]
(2) لعان لعنت سے ہے۔ چونکہ قسموں کے دوران میں آدمی جھوٹے پر لعنت ڈالتا ہے‘ اس لیے اس کارروائی کو لعان کہا جاتا ہے۔
(3) لعان سے حمل کی نفی ہوجائے گی اور بیٹا ماں کی طرف منسوب ہوگا جیسا کہ حدیث: 3507 میں آرہا ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دو لعان کرنے والوں کو لعان کرنے کا حکم دیا تو ایک شخص کو (یہ بھی) حکم دیا کہ جب پانچویں قسم کھانے کا وقت آئے تو لعان کرنے والے کے منہ پر ہاتھ رکھ دے ۱؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یہ قسم اللہ کی لعنت و غضب کو لازم کر دے گی “ ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3502]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لعان کا ذکر آیا، عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ نے اس سلسلے میں کوئی بات کہی پھر وہ چلے گئے تو ان کے پاس ان کی قوم کا ایک شخص شکایت لے کر آیا کہ اس نے ایک شخص کو اپنی بیوی کے ساتھ پایا ہے، یہ بات سن کر عاصم رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں اپنی بات کی وجہ سے اس آزمائش میں ڈال دیا گیا ۱؎ تو وہ اس آدمی کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور اس نے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3500]
(2) ”میں مبتلا ہوا ہوں“ حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے ابتلا کی نسبت اپنی طرف اس لیے کی کہ عویمر کے عقد میں ان کی بیٹی، بھتیجی یا کوئی اور رشتہ دار تھی یا ممکن ہے اس بنا پر کہا ہو کہ ان کی قوم میں یہ مسئلہ پیدا ہوا۔ واللہ أعلم۔
(3) ”موٹی پنڈلیوں والا“ سابقہ حدیث میں باریک پنڈلیوں والا ہے۔ ممکن ہے اوپر سے موٹی ہوں نیچے سے پتلی یا راوی کو غلطی لگ گئی ہو۔
(4) ”لعان کروایا“ ظاہر الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید لعان بچے کی پیدائش کے بعد ہوا‘ لیکن یہ تأثر صحیح نہیں۔ لعان پہلے ہوچکا تھا‘ اس لیے ترجمہ میں لفظ ”خیر“ کا اضافہ کیا گیا ہے تاکہ یہ تأثر زائل ہوجائے۔ باقی روایات میں صراحت ہے کہ لعان پہلے ہوگیا تھا۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اسلام میں لعان کا پہلا واقعہ شریک بن سحماء کا تھا۔ ان پر ہلال بن امیہ نے اپنی بیوی کے ساتھ زنا کی تہمت لگائی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ ’’ گواہ لاؤ، ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد لگائی جائے گی۔ “ اس حدیث کی تخریج ابویعلٰی نے کی ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں اور بخاری میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت بھی اسی طرح ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1050»
«أخرجه أبو يعلي:5 /207، حديث:2824، وحديث ابن عباس، أخرجه البخاري، التفسير، حديث:4747.»
تشریح: وضاحت: «حضرت شریک بن سحماء رضی اللہ عنہ» یہ انصار کے حلیف قبیلے بنو بَلي سے تھے۔
ہلال بن امیہ نے ان پر اپنی بیوی کے ساتھ زنا کی تہمت لگائی تھی۔
ایک قول کے مطابق یہ اپنے والد کے ہمراہ غزوۂ احد میں حاضر تھے اور یہ براء بن مالک کے مادری بھائی تھے۔
ان کے والد کا نام عبدہ بن مُعَتِّب تھا اور سحماء ان کی والدہ کا نام تھا۔
«حضرت ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ» ان کا تعلق انصار کے قبیلۂاوس کی شاخ ’’بنو واقف‘‘ سے تھا۔
مشہور و معروف صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں سے تھے۔
قدیم الاسلام تھے۔
بنو واقف کے بتوں کو توڑا کرتے تھے۔
بدر و احد کے معرکوں میں شریک ہوئے۔
فتح مکہ کے دن بنو واقف کا جھنڈا ان کے ہاتھ میں تھا۔
یہ ان تین صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک تھے جو معرکۂتبوک کے موقع پر پیچھے رہ گئے‘ پھر پچاس روز کے بعد ان کی توبہ قبول ہوئی۔
اللہ تعالیٰ نے سورۃ النور (6۔ 9) میں مسئلہ لعان کی تفصیل بیان کی ہے، اس مسئلے پر آیات کے نزول کی وجہ اور تفصیل ایک حدیث میں یوں بیان کی گئی ہے کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھنے لگا: اگر ایک آدمی اپنی بیوی کے پاس کسی غیر مرد کو پائے، تو یا تو وہ بات کرے گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے کوڑے ماریں گے، یا وہ (اسے) قتل کر دے گا، بدلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو قتل کر دیں گے، یا وہ خاموش رہے گا، تو بھی غیظ پر خاموش رہے گا
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿اللهم افتح﴾ (اے اللہ! تو فیصلہ فرما دے) اور دعا کرنے لگے تو لعان کی آیات نازل ہوئیں: ﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ۔۔۔۔ إِن كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ﴾ (النور: 3-9) تو وہی آدمی اس آزمائش میں مبتلا ہو گیا، چنانچہ وہ اور اس کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے لعان کیا، مرد نے اللہ تعالیٰ کی چار قسمیں کھائیں کہ وہ یقینا سچوں میں سے ہے، پھر پانچویں دفعہ اس نے لعنت کی کہ اس پر لعنت ہوا گر وہ جھوٹوں میں سے ہے، پھر وہ عورت لعنت کر نے لگی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا ثھہرو ٹھہرو، مگر وہ نہیں مانی اور اس نے لعان کر دیا، جب وہ واپس گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاید کہ وہ سیاہ گھنگریالے بالوں والے بچے کو جنم دے، تو اس نے سیاہ گھنگریالے بالوں والے بچے ہی کو جنم دیا۔ [صحيح مسلم: 1495]، جب لعان ہو جائے تو میاں بیوی بغیر طلاق کے ایک دوسرے پر مستقل طور پر حرام ہو جائیں گے۔ [صحيح البخاري: 4746]