سنن ابن ماجه
كتاب الطلاق— کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
بَابُ : الْمُظَاهِرُ يُجَامِعُ قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ باب: ظہار کرنے والا کفارہ دینے سے پہلے جماع کر لے تو اس کے حکم کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلًا ظَاهَرَ مِنَ امْرَأَتِهِ ، فَغَشِيَهَا قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَأَيْتُ بَيَاضَ حِجْلَيْهَا فِي الْقَمَرِ ، فَلَمْ أَمْلِكْ نَفْسِي أَنْ وَقَعْتُ عَلَيْهَا ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَأَمَرَهُ أَلَّا يَقْرَبَهَا حَتَّى يُكَفِّرَ " .
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کیا ، اور کفارہ کی ادائیگی سے قبل ہی جماع کر لیا ، چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور آپ سے اس کا ذکر کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” تم نے ایسا کیوں کیا “ ؟ وہ بولا : اللہ کے رسول ! میں نے اس کے پازیب کی سفیدی چاندنی رات میں دیکھی ، میں بے اختیار ہو گیا ، اور اس سے جماع کر بیٹھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے ، اور اسے حکم دیا کہ کفارہ کی ادائیگی سے پہلے اس کے قریب نہ جائے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کیا، اور کفارہ کی ادائیگی سے قبل ہی جماع کر لیا، چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ” تم نے ایسا کیوں کیا “؟ وہ بولا: اللہ کے رسول! میں نے اس کے پازیب کی سفیدی چاندنی رات میں دیکھی، میں بے اختیار ہو گیا، اور اس سے جماع کر بیٹھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے، اور اسے حکم دیا کہ کفارہ کی ادائیگی سے پہلے اس کے قریب نہ جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2065]
فوائد و مسائل:
(1)
ظہار کرنے والے کو کفارہ ادا کرنے تک بیوی سے الگ رہنا چاہیے۔
(2)
اگروہ غلطی سے کفارہ ادا کرنے سے پہلے مقاربت کرلے تو اسے دوکفارے ادا نہیں کرنے پڑیں گے۔
ایک ہی کفارہ ادا کرے۔
اور اللہ سے معافی مانگے اور استغفار کرے۔