حدیث نمبر: 2061
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آلَى مِنْ بَعْضِ نِسَائِهِ شَهْرًا ، فَلَمَّا كَانَ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ رَاحَ أَوْ غَدَا ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا مَضَى تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ، فَقَالَ : " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعض بیویوں سے ایک ماہ کا ایلاء کیا ، جب ۲۹ دن ہو گئے تو آپ صبح کو یا شام کو بیویوں کے پاس تشریف لے گئے ، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! ابھی تو ۲۹ ہی دن ہوئے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مہینہ ۲۹ کا بھی ہوتا ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطلاق / حدیث: 2061
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الصوم 11 ( 1910 ) ، صحیح مسلم/الصیام 4 ( 1085 ) ، ( تحفة الأشراف : 18201 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 6/315 ) ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´ایلاء کا بیان۔`
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعض بیویوں سے ایک ماہ کا ایلاء کیا، جب ۲۹ دن ہو گئے تو آپ صبح کو یا شام کو بیویوں کے پاس تشریف لے گئے، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! ابھی تو ۲۹ ہی دن ہوئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہینہ ۲۹ کا بھی ہوتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2061]
اردو حاشہ:
فائدہ: ’’مہینہ انتیس دن کا ہے۔‘‘
اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مہینہ انتیس دن کا ہے۔
اگر تیس دن کا ہوتا تو میں ایک دن مزید رک جاتا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2061 سے ماخوذ ہے۔