سنن ابن ماجه
كتاب الطلاق— کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
بَابُ : طَلاَقِ الْبَتَّةِ باب: بتہ یعنی بائن طلاق کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ ؟ ، فَقَالَ : " مَا أَرَدْتَ بِهَا ؟ " ، قَالَ : وَاحِدَةً ، قَالَ : " آللَّهِ مَا أَرَدْتَ بِهَا إِلَّا وَاحِدَةً ، قَالَ : آللَّهِ مَا أَرَدْتُ بِهَا إِلَّا وَاحِدَةً " ، قَالَ : فَرَدَّهَا عَلَيْهِ ، قَالَ مُحَمَّد بْن مَاجَةَ : سَمِعْت أَبَا الْحَسَنِ عَلِيَّ بْنَ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسِيَّ يَقُولُ : مَا أَشْرَفَ هَذَا الْحَدِيثَ ، قَالَ ابْن مَاجَةَ : أَبُو عُبَيْدٍ تَرَكَهُ نَاجِيَةُ وَأَحْمَدُ جَبُنَ عَنْهُ .
´رکانہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ ( قطعی طلاق ) دے دی ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے ان سے پوچھا : ” تم نے اس سے کیا مراد لی ہے “ ؟ انہوں نے کہا : ایک ہی مراد لی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” قسم اللہ کی کیا تم نے اس سے ایک ہی مراد لی ہے “ ؟ ، انہوں نے کہا : قسم اللہ کی میں نے اس سے صرف ایک ہی مراد لی ہے ، تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بیوی انہیں واپس لوٹا دی ۱؎ ۔ محمد بن ماجہ کہتے ہیں : میں نے محمد بن حسن بن علی طنافسی کو کہتے سنا : یہ حدیث کتنی عمدہ ہے ۔ ابن ماجہ کہتے ہیں : ابوعبیدہ نے یہ حدیث ایک گوشے میں ڈال دی ہے ، اور احمد اسے روایت کرنے کی ہمت نہیں کر سکے ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
رکانہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اپنی بیوی کو قطعی طلاق (بتّہ) دی ہے۔ آپ نے فرمایا: ” تم نے اس سے کیا مراد لی تھی؟ “، میں نے عرض کیا: ایک طلاق مراد لی تھی، آپ نے پوچھا: ” اللہ کی قسم؟ “ میں نے کہا: اللہ کی قسم! آپ نے فرمایا: ” تو یہ اتنی ہی ہے جتنی کا تم نے ارادہ کیا تھا۔“ [سنن ترمذي/كتاب الطلاق واللعان/حدیث: 1177]
نوٹ:
(سند میں زبیر بن سعید اور عبد اللہ بن علی ضعیف ہیں، اورعلی بن یزید بن رکانہ مجہول ہیں، نیز بروایتِ ترمذی بقول امام بخاری: اس حدیث میں سخت اضطراب ہے، تفصیل کے لیے دیکھئے: الارواء (رقم 2063)
رکانہ بن عبد یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دے دی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے پوچھا: ” تم نے کیا نیت کی تھی؟ “ انہوں نے کہا: ایک کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کیا اللہ کی قسم کھا کر کہہ رہے ہو؟ “ انہوں نے کہا: ہاں اللہ کی قسم کھا کر کہہ رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس کا تم نے ارادہ کیا ہے وہی ہو گا۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ روایت ابن جریج والی روایت سے زیادہ صحیح ہے جس میں ہے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی تھی کیونکہ یہ روایت ان کے اہل خانہ کی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2208]
اس روایت کی صحت میں اختلاف ہے۔
ہمارے فاضل محقق شیخ زبیر علی زئی اور بعض محقیقین کے نزدیک ضعیف ہے ابوداؤد کا یہ کہنا ہے کہ یہ حدیث ابن جریج کی حدیث سے صحیح تر ہے کا یہ معنی ہے کہ یہ فی الواقع اصطلاحی تعریف کے مطابق صحیح ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ یہ سند دوسری کے مقابلے میں قدرے بہتر ہے۔
مگر حقیقتا دونوں ہی میں ضعف ہے۔
(دیکھیے ارواءالغلیل:1437)
نافع بن عجیر بن عبد یزید بن رکانہ سے روایت ہے کہ رکانہ بن عبد یزید نے اپنی بیوی سہیمہ کو طلاق بتہ ۱؎ (قطعی طلاق) دے دی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی اور کہا: اللہ کی قسم! میں نے تو ایک ہی طلاق کی نیت کی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قسم اللہ کی تم نے صرف ایک کی نیت کی تھی؟ “ رکانہ نے کہا: قسم اللہ کی میں نے صرف ایک کی نیت کی تھی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بیوی انہیں واپس لوٹا دی، پھر انہوں نے اسے دوسری طلاق عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں دی اور تیسری عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2206]
’’بتۃ‘‘ بمعنی قطع (کاٹنا) ہے۔
یعنی طلاق دینے والا کہے کہ میں تجھے بتہ طلاق دیتا ہوں۔
یعنی ایسی طلاق جس میں رجوع نہیں اور اپنا تعلق پوری طرح کاٹتا ہوں۔
اور اس کی مراد تین طلاق ہو۔