حدیث نمبر: 2049
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ جُوَيْبِرٍ ، عَنْ الضَّحَّاكِ ، عَنْ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا طَلَاقَ قَبْلَ النِّكَاحِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نکاح سے پہلے طلاق نہیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطلاق / حدیث: 2049
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 10294 ، ومصباح الزجاجة : 724 ) ( صحیح ) » ( سند میں جویبر ضعیف راوی ہے ، لیکن سابقہ شواہد کی وجہ سے یہ صحیح ہے )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : معجم صغير للطبراني: 503 | معجم صغير للطبراني: 509

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´نکاح سے پہلے دی گئی طلاق کے صحیح نہ ہونے کا بیان۔`
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نکاح سے پہلے طلاق نہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2049]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
اگر کوئی شخص یہ کہے: ’’اگر میں فلاں عورت سے نکاح کروں تو اسے طلاق۔‘‘
تو یہ لغو کلام ہوگا جس کا کوئی اثرنہیں ہوگا، اسی طرح اگر کہے: ’’میں جس عورت سے نکاح کروں تو اسے طلاق ہے۔‘‘
اس کے بعد نکاح کرے تو طلاق نہیں پڑے گی کیونکہ جب طلاق دی تھی اس وقت وہ اس کی بیوی ہی نہیں تھی کہ طلاق پڑتی اور نکاح کے بعد دوبارہ طلاق دی نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2049 سے ماخوذ ہے۔