سنن ابن ماجه
كتاب الطلاق— کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
بَابُ : طَلاَقِ الْمُكْرَهِ وَالنَّاسِي باب: زبردستی یا بھول سے دی گئی طلاق کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2046
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، قَالَتْ : حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا طَلَاقَ وَلَا عَتَاقَ فِي إِغْلَاقٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” زبردستی کی صورت میں نہ طلاق واقع ہوتی ہے اور نہ عتاق ( غلامی سے آزادی ) “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2193 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´غصہ کی حالت میں طلاق دینے کا بیان۔`
محمد بن عبید بن ابوصالح (جو ایلیاء میں رہتے تھے) کہتے ہیں کہ میں عدی بن عدی کندی کے ساتھ نکلا یہاں تک کہ میں مکہ آیا تو انہوں نے مجھے صفیہ بنت شیبہ کے پاس بھیجا، اور انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیثیں یاد کر رکھی تھیں، وہ کہتی ہیں: میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: "زبردستی کی صورت میں طلاق دینے اور آزاد کرنے کا اعتبار نہیں ہو گا۔" ابوداؤد کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ غلاق کا مطلب غصہ ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2193]
محمد بن عبید بن ابوصالح (جو ایلیاء میں رہتے تھے) کہتے ہیں کہ میں عدی بن عدی کندی کے ساتھ نکلا یہاں تک کہ میں مکہ آیا تو انہوں نے مجھے صفیہ بنت شیبہ کے پاس بھیجا، اور انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیثیں یاد کر رکھی تھیں، وہ کہتی ہیں: میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: "زبردستی کی صورت میں طلاق دینے اور آزاد کرنے کا اعتبار نہیں ہو گا۔" ابوداؤد کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ غلاق کا مطلب غصہ ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2193]
فوائد ومسائل:
کتب غریب الحدیث میں اغلاق کے معنی جبر و اکراہ اور جنون کے بھی آئے ہیں۔
اس حدیث میں مراد غصے کی وہ شدید کیفیت ہے جس میں انسان کو ہوش نہیں رہتا۔
ورنہ عام حالات میں خوشی سے کوئی طلاق نہیں دیتا۔
جبر و اکراہ سے طلاق دلوائی جائے یا کوئی جنون کی کیفیت میں طلاق دے تو نافذ نہیں ہوتی۔
غصے میں دے تو ہو جاتی ہے۔
کتب غریب الحدیث میں اغلاق کے معنی جبر و اکراہ اور جنون کے بھی آئے ہیں۔
اس حدیث میں مراد غصے کی وہ شدید کیفیت ہے جس میں انسان کو ہوش نہیں رہتا۔
ورنہ عام حالات میں خوشی سے کوئی طلاق نہیں دیتا۔
جبر و اکراہ سے طلاق دلوائی جائے یا کوئی جنون کی کیفیت میں طلاق دے تو نافذ نہیں ہوتی۔
غصے میں دے تو ہو جاتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2193 سے ماخوذ ہے۔