حدیث نمبر: 2045
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأَ ، وَالنِّسْيَانَ ، وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک اللہ نے میری امت سے بھول چوک اور زبردستی کرائے گئے کام معاف کر دیئے ہیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطلاق / حدیث: 2045
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 5905 ، ومصباح الزجاجة : 722 ) ( صحیح ) ( ملاحظہ ہو : الإرواء : 82 ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : معجم صغير للطبراني: 476 | بلوغ المرام: 922

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 922 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´طلاق کا بیان`
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے میری امت سے خطا، بھول چوک اور جس پر اسے مجبور کیا گیا ہو معاف فرما دیا ہے۔ اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور ابوحاتم نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 922»
تخریج:
«أجرجه ابن ماجه، الطلاق، باب طلاق المكره والناسي، حديث:2045، والحاكم:2 /198، وصححه علي شرط الشيخين، ووافقه الذهبي، وسنده صحيح، وللحديث شواهد كثيرة.»
تشریح: یہ اور سابقہ‘ دونوں احادیث اس لیے بیان کی گئی ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ ایسی صورت میں شرعاً طلاق واقع نہیں ہوتی۔
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی شخص کو ڈرا دھمکا کر یا کسی بھی اور طریقے سے مجبور کر کے اس سے طلاق لے لی جائے تو شریعت کی رو سے وہ طلاق قطعاً واقع نہیں ہو گی۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 922 سے ماخوذ ہے۔