حدیث نمبر: 2042
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَنْبَأَنَا الْقَاسِمُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يُرْفَعُ الْقَلَمُ عَنِ الصَّغِيرِ ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ ، وَعَنِ النَّائِمِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بچے ، دیوانے اور سوئے ہوئے شخص سے قلم اٹھا لیا جاتا ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطلاق / حدیث: 2042
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف،القاسم بن يزيد ھذا مجھول و أيضًا لم يدرك علي بن أبي طالب‘‘, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 452
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 10255 ) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الحدود 1 ( 1423 ) ( صحیح ) » ( دوسرے شواہد کے بناء پر یہ حدیث صحیح ہے ، اس کی سند میں القاسم بن یزید مجہول ہیں ، اور ان کی ملاقات علی رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 4402 | سنن ابي داود: 4403

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4403 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´دیوانہ اور پاگل چوری کرے یا حد کا ارتکاب کرے تو کیا حکم ہے؟`
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " قلم تین آدمیوں سے اٹھا لیا گیا ہے: سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، اور دیوانے سے یہاں تک کہ اسے عقل آ جائے۔‏‏‏‏" ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن جریج نے قاسم بن یزید سے انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے، علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے، اور اس میں " کھوسٹ بوڑھے " کا اضافہ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4403]
فوائد ومسائل:
بڑی عمر کا سٹھایا ہوا آدمی جو اپنے عقل وشعورمیں نہ ہو، اس کا بھی یہی حکم ہے۔
واللہ اعلم
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4403 سے ماخوذ ہے۔