مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 2041
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خِدَاشٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ : عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ ، وَعَنِ الصَّغِيرِ حَتَّى يَكْبَرَ ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَعْقِلَ ، أَوْ يُفِيقَ " ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي حَدِيثِهِ : وَعَنِ الْمُبْتَلَى حَتَّى يَبْرَأَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین افراد سے قلم اٹھا لیا گیا ہے : ایک تو سونے والے سے یہاں تک کہ وہ جاگے ، دوسرے نابالغ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے ، تیسرے پاگل اور دیوانے سے یہاں تک کہ وہ عقل و ہوش میں آ جائے “ ۔ ابوبکر کی روایت میں «وعن المجنون حتى يعقل» کے بجائے «وعن المبتلى حتى يبرأ» ” دیوانگی میں مبتلا شخص سے یہاں تک کہ وہ اچھا ہو جائے “ ہے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: ان میں سے کسی کی طلاق نہ پڑے گی، لیکن پاگل اور دیوانے میں اختلاف ہے اور اکثر کے نزدیک اس کی طلاق پڑ جائے گی۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطلاق / حدیث: 2041
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سنن أبي داود (4398) نسائي (3462), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 452
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 4398 | سنن نسائي: 3462 | بلوغ المرام: 927

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´دیوانہ، نابالغ اور سوئے ہوئے شخص کی طلاق کے حکم کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین افراد سے قلم اٹھا لیا گیا ہے: ایک تو سونے والے سے یہاں تک کہ وہ جاگے، دوسرے نابالغ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، تیسرے پاگل اور دیوانے سے یہاں تک کہ وہ عقل و ہوش میں آ جائے۔‏‏‏‏ ابوبکر کی روایت میں «وعن المجنون حتى يعقل» کے بجائے «وعن المبتلى حتى يبرأ» دیوانگی میں مبتلا شخص سے یہاں تک کہ وہ اچھا ہو جائے ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2041]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  قلم اٹھائے جانےکا مطلب یہ ہے کہ اس کے اعمال نہیں لکھے جاتے۔

(2)
  حدیث میں مذکور افراد کے کسی عمل کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، وہ اعمال کالعدم ہیں۔

(3)
  اگر کوئی شخص نیند میں اپنی زبان سے ’’طلاق‘‘ کے الفاظ نکالے تو وہ طلاق واقع نہیں ہوگی کیونکہ نہ اس کا ارادہ طلاق دینے کا تھا، نہ اسے معلو م تھا کہ اس نے طلاق دی ہے۔

(4)
نابالغ بچے کے نکاح طلاق وغیرہ کےمعاملات اس کے سرپرست کے ہاتھ میں ہیں، لہٰذا طلاق بھی بچے کے دینے سے نہیں بلکہ سرپرست کی مرضی سے ہوگی۔
جب بالغ ہوجائے، پھر اس کی طلاق معتبر ہوگی۔
اس میں سرپرست کی منظوری یا ناراضی کا اثر نہیں ہوگا۔

(5)
  مجنون کی بیماری اگر اس قسم کی ہوکہ کبھی ہوش میں ہوتاہے کبھی نہیں تو جب وہ ہوش وحواس میں ہواوراسی حالت میں دے، تب اس کی طلاق معتبر ہوگی ورنہ نہیں۔
اگر اسے کبھی ہوش نہیں آتا تو اس کے منہ سے نکلی ہوئی طلاق کالعدم ہے۔
اگر عورت اس سے الگ ہونے کی ضرورت محسوس کرتی ہے تو عدالت کے ذریعے سےنکاح فسخ ہوسکتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2041 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4398 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´دیوانہ اور پاگل چوری کرے یا حد کا ارتکاب کرے تو کیا حکم ہے؟`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین شخصوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے، سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، دیوانہ سے یہاں تک کہ اسے عقل آ جائے، اور بچہ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4398]
فوائد ومسائل:
مجنون یعنی فاترالعقل اور پاگل نابالغ بچہ اور سویا ہوا آدمی اگر کوئی ایسا کام کر گزرے جو قابل حد ہوتو اس پر شرعا کوئی مواخذہ نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4398 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3462 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´کن شوہروں کی طلاق واقع نہیں ہوتی۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین طرح کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے ۱؎ ایک تو سونے والے سے یہاں تک کہ وہ جاگے ۲؎، دوسرے نابالغ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، تیسرے دیوانے سے یہاں تک کہ وہ عقل و ہوش میں آ جائے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3462]
اردو حاشہ: ان تین اشخاص کے مرفوع القلم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان حالتوں کے دوران میں ان سے کوئی غلطی ہوجائے تو اس پر گرفت نہیں ہوتی کیونکہ ان حالتوں میں انسان بے اختیار ہوتا ہے اور اختیار کیے بغیر پوچھ گچھ بے معنیٰ ہے۔ البتہ اگر کسی کا مالی نقصان ہوجائے تو وہ بھرنا پڑے گا۔ طلاق کوئی مالی مسئلہ نہیں‘ لہٰذا ان تین حالتوں میں دی ہوئی طلاق واقع نہیں ہوگی کیونکہ ان حالتو ں میں انسان مرفوع القلم ہوتا ہے۔ البتہ نشے والی حالت میں طلاق مختلف فیہ ہے۔ احناف موالک وقوع اور شوافع وحنابلہ عدوم وقوع کے قائل ہیں۔ اصولی لحاظ سے نشے میں طلاق واقع نہیں ہوتی کیونکہ قصدواختیار نہیں۔ اور نشے کی سزا شریعت میں مقرر ہے‘ وہ اسے دی جائے گی۔ بطور سزا طلاق کو نافذ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ہم اسکی سزا میں اضافہ یا دوسزائیں جمع کرنے کے مجاز نہیں۔ واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3462 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 927 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´طلاق کا بیان`
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے۔ سونے والا جب تک بیدار نہ ہو، بچہ جب تک بالغ نہ ہو، دیوانہ جب تک صحیح العقل نہ ہو۔ بروایت امام احمد اور ابوداؤد، ابن ماجہ و نسائی۔ حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 927»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الحدود، باب في المجنون يسرق أو يصيب حدًا، حديث:4398، والترمذي، الحدود، حديث:1423، والنسائي، الطلاق، حديث:3462، وابن ماجه، الطلاق، حديث:2041، وأحمد:1 /118، 240، 155، 158، والحاكم:2 /59 وصححه علي شرط مسلم، ووافقه الذهبي.»
تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایسے لوگوں کی طرف سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 927 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔