سنن ابن ماجه
(أبواب كتاب السنة)— (ابواب کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت)
بَابُ : مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً أَوْ سَيِّئَةً باب: (دین میں) اچھے یا برے طریقہ کے موجد کا انجام۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنِي أَبِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَثَّ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : رَجُلٌ عِنْدِي كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : فَمَا بَقِيَ فِي الْمَجْلِسِ رَجُلٌ إِلَّا تَصَدَّقَ عَلَيْهِ بِمَا قَلَّ أَوْ كَثُرَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اسْتَنَّ خَيْرًا فَاسْتُنَّ بِهِ كَانَ لَهُ أَجْرُهُ كَامِلًا ، وَمِنْ أُجُورِ مَنِ اسْتَنَّ بِهِ ، وَلَا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا ، وَمَنِ اسْتَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً فَاسْتُنَّ بِهِ فَعَلَيْهِ وِزْرُهُ كَامِلًا ، وَمِنْ أَوْزَارِ الَّذِينَ اسْتَنَّ بِهِ ، وَلَا يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا " .
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس پر صدقہ و خیرات کرنے کی ترغیب دلائی ، ایک صحابی نے کہا : میرے پاس اتنا اتنا مال ہے ، راوی کہتے ہیں : اس مجلس میں جو بھی تھا اس نے تھوڑا یا زیادہ ضرور اس پر صدقہ کیا ، تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے کوئی اچھی سنت جاری کی اور لوگوں نے اس پر عمل کیا تو اسے اس کے عمل کا پورا ثواب ملے گا ، اور ان لوگوں کا ثواب بھی اس کو ملے گا جو اس سنت پر چلے ، ان کے ثوابوں میں کوئی کمی بھی نہ کی جائے گی ، اور جس نے کوئی غلط طریقہ جاری کیا ، اور لوگوں نے اس پر عمل کیا ، تو اس پر اس کا پورا گناہ ہو گا ، اور ان لوگوں کا گناہ بھی اس پر ہو گا جنہوں نے اس غلط طریقہ پر عمل کیا ، اور اس سے عمل کرنے والوں کے گناہوں میں کچھ بھی کمی نہ ہو گی “ ۔