سنن ابن ماجه
كتاب الطلاق— کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
بَابُ : هَلْ تَخْرُجُ الْمَرْأَةُ فِي عِدَّتِهَا باب: کیا عورت عدت میں گھر سے باہر نکل سکتی ہے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " دَخَلْتُ عَلَى مَرْوَانَ ، فَقُلْتُ لَهُ : امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِكَ طُلِّقَتْ ، فَمَرَرْتُ عَلَيْهَا وَهِيَ تَنْتَقِلُ ، فَقَالَتْ : أَمَرَتْنَا فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ وَأَخْبَرَتْنَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا أَنْ تَنْتَقِلَ ، فَقَالَ مَرْوَانُ : هِيَ أَمَرَتْهُمْ بِذَلِكَ ، قَالَ عُرْوَةُ : فَقُلْتُ : أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ عَابَتْ ذَلِكَ عَائِشَةُ ، وَقَالَتْ : إِنَّ فَاطِمَةَ كَانَتْ فِي مَسْكَنٍ وَحْشٍ ، فَخِيفَ عَلَيْهَا ، فَلِذَلِكَ أَرْخَصَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
´عروہ کہتے ہیں کہ` میں نے مروان کے پاس جا کر کہا کہ آپ کے خاندان کی ایک عورت کو طلاق دے دی گئی ، میرا اس کے پاس سے گزر ہوا تو دیکھا کہ وہ گھر سے منتقل ہو رہی ہے ، اور کہتی ہے : فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے ہمیں حکم دیا ہے اور ہمیں بتایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں گھر بدلنے کا حکم دیا تھا ، مروان نے کہا : اسی نے اسے حکم دیا ہے ۔ عروہ کہتے ہیں کہ تو میں نے کہا : اللہ کی قسم ، عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس چیز کو ناپسند کیا ہے ، اور کہا ہے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ایک خالی ویران مکان میں تھیں جس کی وجہ سے ان کے بارے میں ڈر پیدا ہوا ، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مکان بدلنے کی اجازت دی ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عروہ کہتے ہیں کہ میں نے مروان کے پاس جا کر کہا کہ آپ کے خاندان کی ایک عورت کو طلاق دے دی گئی، میرا اس کے پاس سے گزر ہوا تو دیکھا کہ وہ گھر سے منتقل ہو رہی ہے، اور کہتی ہے: فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے ہمیں حکم دیا ہے اور ہمیں بتایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں گھر بدلنے کا حکم دیا تھا، مروان نے کہا: اسی نے اسے حکم دیا ہے۔ عروہ کہتے ہیں کہ تو میں نے کہا: اللہ کی قسم، عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس چیز کو ناپسند کیا ہے، اور کہا ہے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ایک خالی ویران مکان میں تھیں جس کی وجہ سے ان کے بارے میں ڈر پیدا ہوا، اسی ل۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2032]
فوائد و مسائل:
(1)
طلاق کے بعد بھی عدت خاوند کے گھر ہی گزارنی چاہیے۔
(2)
اگر کوئی شدید عذر موجود ہو تو رہائش تبدیل کی جا سکتی ہے۔
(3)
ویران گھر کا مطلب یہ ہے کہ ااس کے قریب آبادی بہت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر تھی۔
(4)
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ ﷺ نے عذر کی وجہ سے رہائش تبدیل کرلینے کی اجازت دی تھی۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اسے عام حکم سمجھا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس موقف سے اتفاق نہیں کیا اور واضح کیا کہ ہر عورت کو اس طرح اجازت نہیں اور یہی موقف درست ہے۔