سنن ابن ماجه
كتاب الطلاق— کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
بَابُ : الْحَامِلِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا إِذَا وَضَعَتْ حَلَّتْ لِلأَزْوَاجِ باب: حاملہ عورت کا شوہر مر جائے تو اس کی عدت بچہ جننے کے ساتھ ختم ہو جائے گی اور اس کے بعد اس سے شادی جائز ہے۔
حدیث نمبر: 2030
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " وَاللَّهِ لَمَنْ شَاءَ لَاعَنَّاهُ لَأُنْزِلَتْ سُورَةُ النِّسَاءِ الْقُصْرَى بَعْدَ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` اللہ کی قسم ! جو کوئی چاہے ہم اس سے لعان کر لیں کہ چھوٹی سورۃ نساء ( سورۃ الطلاق ) اس آیت کے بعد اتری ہے جس میں چار ماہ دس دن کی عدت کا حکم ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اور سورہ طلاق میں یہ آیت «وَأُوْلاتُ الأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ» (سورة الطلاق: 4) حاملہ عورتوں کے باب میں ناسخ ہو گی پہلی آیت کی البتہ غیر حاملہ وفات کی عدت چار مہنیے دس دن گزارے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´حاملہ عورت کا شوہر مر جائے تو اس کی عدت بچہ جننے کے ساتھ ختم ہو جائے گی اور اس کے بعد اس سے شادی جائز ہے۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! جو کوئی چاہے ہم اس سے لعان کر لیں کہ چھوٹی سورۃ نساء (سورۃ الطلاق) اس آیت کے بعد اتری ہے جس میں چار ماہ دس دن کی عدت کا حکم ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2030]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! جو کوئی چاہے ہم اس سے لعان کر لیں کہ چھوٹی سورۃ نساء (سورۃ الطلاق) اس آیت کے بعد اتری ہے جس میں چار ماہ دس دن کی عدت کا حکم ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2030]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
سورۂ طلاق میں یہ حکم ہے کہ حاملہ عورتوں کی عدت وضع حمل ہے۔
یہ حکم بعد میں نازل ہوا۔
اور سورۂ بقرہ کی وہ آیت اس سے پہلے نازل ہوئی تھی جس میں یہ حکم ہے کہ بیوہ کی عدت چار ماہ دس دن ہے (البقرۃ234: 2)
لہٰذا حاملہ عورت کا خاوند اگر فوت ہوجائے تو اس کی عدت چار ماہ دس دن نہیں بلکہ وضع حمل ہے، خواہ حمل کی مدت کم ہو یا زیادہ۔
اور یہی مسئلہ صحیح ہے۔
(2)
جو عورت حمل سے نہ ہو اور اس کا خاوند فوت ہو جائے، اس کےلیے یہ حکم باقی ہے کہ وہ چار ماہ دس دن عدت گزارے، خواہ اس کی رخصتی ہوئی ہو یا صرف نکاح ہوا ہو اور رخصتی نہ ہوئی ہو۔
فوائد و مسائل:
(1)
سورۂ طلاق میں یہ حکم ہے کہ حاملہ عورتوں کی عدت وضع حمل ہے۔
یہ حکم بعد میں نازل ہوا۔
اور سورۂ بقرہ کی وہ آیت اس سے پہلے نازل ہوئی تھی جس میں یہ حکم ہے کہ بیوہ کی عدت چار ماہ دس دن ہے (البقرۃ234: 2)
لہٰذا حاملہ عورت کا خاوند اگر فوت ہوجائے تو اس کی عدت چار ماہ دس دن نہیں بلکہ وضع حمل ہے، خواہ حمل کی مدت کم ہو یا زیادہ۔
اور یہی مسئلہ صحیح ہے۔
(2)
جو عورت حمل سے نہ ہو اور اس کا خاوند فوت ہو جائے، اس کےلیے یہ حکم باقی ہے کہ وہ چار ماہ دس دن عدت گزارے، خواہ اس کی رخصتی ہوئی ہو یا صرف نکاح ہوا ہو اور رخصتی نہ ہوئی ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2030 سے ماخوذ ہے۔