سنن ابن ماجه
كتاب الطلاق— کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
بَابُ : الْمُطَلَّقَةِ الْحَامِلِ إِذَا وَضَعَتْ ذَا بَطْنِهَا بَانَتْ باب: حاملہ عورت کو طلاق دی جائے تو بچہ جنتے ہی وہ مطلقہ بائنہ ہو جائے گی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ هَيَّاجٍ ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ ، أَنَّهُ كَانَتْ عِنْدَهُ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ عُقْبَةَ ، فَقَالَتْ لَهُ وَهِيَ حَامِلٌ : طَيِّبْ نَفْسِي بِتَطْلِيقَةٍ ، فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَةً ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ ، فَرَجَعَ وَقَدْ وَضَعَتْ ، فَقَالَ : مَا لَهَا خَدَعَتْنِي خَدَعَهَا اللَّهُ ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " سَبَقَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ اخْطُبْهَا إِلَى نَفْسِهَا " .
´زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` ان کی زوجیت میں ام کلثوم بنت عقبہ تھیں ، انہوں نے حمل کی حالت میں زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا : مجھے ایک طلاق دے کر میرا دل خوش کر دو ، لہٰذا انہوں نے ایک طلاق دے دی ، پھر وہ نماز کے لیے نکلے جب واپس آئے تو وہ بچہ جن چکی تھیں تو زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا : اسے کیا ہو گیا ؟ اس نے مجھ سے مکر کیا ہے ، اللہ اس سے مکر کرے ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کتاب کی میعاد گزر گئی ( اب رجوع کا اختیار نہیں رہا ) لیکن اسے نکاح کا پیغام دے دو “ ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی زوجیت میں ام کلثوم بنت عقبہ تھیں، انہوں نے حمل کی حالت میں زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھے ایک طلاق دے کر میرا دل خوش کر دو، لہٰذا انہوں نے ایک طلاق دے دی، پھر وہ نماز کے لیے نکلے جب واپس آئے تو وہ بچہ جن چکی تھیں تو زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اسے کیا ہو گیا؟ اس نے مجھ سے مکر کیا ہے، اللہ اس سے مکر کرے، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " کتاب کی میعاد گزر گئی (اب رجوع کا اختیار نہیں رہا) لیکن اسے نکاح کا پیغام دے دو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2026]
فوائد و مسائل:
(1)
اس حدیث میں بیان کردہ مسئلہ صحیح ہے، اسی لیے بعض حضرات کے نزدیک یہ روایت صحیح ہے۔
(2)
حضرت زبیر نے اسے طلاق دے دی تھی کہ ایک طلاق تو رجعی ہوتی ہے، پھر رجوع کرلوں گا۔
انہیں معلوم نہیں تھا کہ ولادت کا وقت اس قدر قریب ہے۔
(3)
رجعی طلاق کے بعد جب عدت گزر جائے تو زبانی رجوع کافی نہیں ہوگا بلکہ نئے سرے سے نکاح کرنا پڑے گا۔
(4)
دوبارہ پیغام دینے کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ پسند کرے گی تو دوبارہ نکاح کرے گی ورنہ زبردستی تو نہیں ہوسکتی۔
(5)
بچے کی پیدائش سے طلاق کی عدت بھی ختم ہوجاتی ہے اور خاوند کی وفات کی عدت بھی۔