سنن ابن ماجه
كتاب الطلاق— کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
بَابُ : الرَّجْعَةِ باب: طلاق سے رجوع ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2025
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ الْحُصَيْنِ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ، ثُمَّ يَقَعُ بِهَا وَلَمْ يُشْهِدْ عَلَى طَلَاقِهَا وَلَا عَلَى رَجْعَتِهَا ؟ ، فَقَالَ عِمْرَانُ :" طَلَّقْتَ بِغَيْرِ سُنَّةٍ ، وَرَاجَعْتَ بِغَيْرِ سُنَّةٍ ، أَشْهِدْ عَلَى طَلَاقِهَا وَعَلَى رَجْعَتِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مطرف بن عبداللہ بن شخیر سے روایت ہے کہ` عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو اپنی بیوی کو طلاق دیدے پھر اس سے جماع کرے ، اور اپنی طلاق اور رجعت پہ کسی کو گواہ نہ بنائے ؟ تو عمران رضی اللہ عنہ نے کہا : تم نے سنت کے خلاف طلاق دی ، اور سنت کے خلاف رجعت کی ، اپنی طلاق اور رجعت پہ گواہ بناؤ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: گواہی ان دونوں کے لئے شرط نہیں، ہاں مسنون ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´طلاق سے رجوع ہونے کا بیان۔`
مطرف بن عبداللہ بن شخیر سے روایت ہے کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو اپنی بیوی کو طلاق دیدے پھر اس سے جماع کرے، اور اپنی طلاق اور رجعت پہ کسی کو گواہ نہ بنائے؟ تو عمران رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے سنت کے خلاف طلاق دی، اور سنت کے خلاف رجعت کی، اپنی طلاق اور رجعت پہ گواہ بناؤ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2025]
مطرف بن عبداللہ بن شخیر سے روایت ہے کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو اپنی بیوی کو طلاق دیدے پھر اس سے جماع کرے، اور اپنی طلاق اور رجعت پہ کسی کو گواہ نہ بنائے؟ تو عمران رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے سنت کے خلاف طلاق دی، اور سنت کے خلاف رجعت کی، اپنی طلاق اور رجعت پہ گواہ بناؤ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2025]
اردو حاشہ:
فائده:
جس طرح نکاح کےموقع پر گواہوں کا تقرر ہوتا ہے، اسی طرح طلاق اور رجوع بھی گواہوں کی موجودگی میں ہونا چاہیے۔
فائده:
جس طرح نکاح کےموقع پر گواہوں کا تقرر ہوتا ہے، اسی طرح طلاق اور رجوع بھی گواہوں کی موجودگی میں ہونا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2025 سے ماخوذ ہے۔