سنن ابن ماجه
كتاب الطلاق— کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
بَابُ : طَلاَقِ السُّنَّةِ باب: سنت کے مطابق طلاق دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2020
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " طَلَاقُ السُّنَّةِ أَنْ يُطَلِّقَهَا طَاهِرًا مِنْ غَيْرِ جِمَاعٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` طلاق سنی یہ ہے کہ عورت کو اس طہر میں ایک طلاق دے جس میں اس سے جماع نہ کیا ہو ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: تاکہ عورت کو عدت کے حساب میں آسانی ہو، اور اسی طہر سے عدت شروع ہو جائے، تین طہر کے بعد وہ مطلقہ بائنہ ہو جائے گی، عدت ختم ہونے کے بعد وہ دوسرے سے شادی کر سکتی ہے، طلاق سنت یہ ہے کہ عورت کو ایسے طہر میں طلاق دے جس میں جماع نہ کیا ہو، اور شرط یہ ہے کہ اس طہر سے پہلے جو حیض تھا اس میں طلاق نہ دی ہو، یا حمل کی حالت میں جب حمل ظاہر ہو گیا ہو اور اس کے سوا دوسری طرح طلاق دینا (مثلاً حیض کی حالت میں یا طہر کی حالت میں جب جماع کر چکا ہو یا حمل کی حالت میں جب وہ ظاہر نہ ہوا ہو، لیکن شبہ ہو، اسی طرح تین طلاق ایک بار دینا حرام ہے اور اس کا ذکر آگے آئے گا) اور حدیث میں جو ابن عمر رضی اللہ عنہ کو حکم ہوا کہ اس طہر کے بعد دوسرے طہر میں طلاق دیں، تو اس میں یہ حکمت تھی کہ طلاق سے رجعت کا علم نہ ہو تو ایک طہر تک عورت کو رہنے دے، اور بعضوں نے کہا کہ یہ سزا ان کے ناجائز فعل کی دی، اور بعضوں نے کہا یہ طہر اسی حیض سے متعلق تھا جس میں طلاق دی گئی تھی اس لئے دوسرے طہر کا انتظار کرے۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 894 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´نماز میں دونوں قدموں کے ملانے کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، اس نے اپنے دونوں قدم ملا رکھا تھا تو انہوں نے کہا: یہ سنت سے چوک گیا، اگر وہ ان دونوں کو ایک دوسرے سے جدا رکھتا تو میرے نزدیک زیادہ اچھا ہوتا۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 894]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، اس نے اپنے دونوں قدم ملا رکھا تھا تو انہوں نے کہا: یہ سنت سے چوک گیا، اگر وہ ان دونوں کو ایک دوسرے سے جدا رکھتا تو میرے نزدیک زیادہ اچھا ہوتا۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 894]
894۔ اردو حاشیہ: ➊ مذکورہ بالا دونوں روایات انقطاع کی وجہ سے سنداً ضعیف ہیں جیسا کہ محقق کتاب نے بھی صراحت کی ہے، اس لیے امام نسائی رحمہ اللہ کا "السنن الکبریٰ، حدیث: 969" میں اسے جید کہنا محل نظر ہے۔
➋ دونوں پاؤں جوڑ کر رکھنا جہاں تکلیف کا موجب ہے کہ انسان زیادہ دیر کھڑا نہیں ہو سکتا وہاں سنت صحیحہ کی مخالفت بھی ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ تھی کہ اپنے دونوں پاؤں کے درمیان مناسب فاصلہ رکھتے تھے، صف بندی میں تو ملنے کے لیے لازماً پاؤں کچھ نہ کچھ کھولنے پڑیں گے، تاہم اپنی جسامت سے زیادہ نہ کھولے۔
➌ سنن ابوداود کی جس روایت میں «صف القدمین من السنة» "پاؤں کو ملانا سنت ہے۔" [سنن ابی داود، الصلاة، حدیث: 754]
کا ذکر ہے تو اس کا مطلب پاؤں کو برابر رکھنا اور انہیں آگے پیچھے نہ رکھنا مراد ہے جیسا کہ تخریج میں صراحت کی گئی ہے۔
➋ دونوں پاؤں جوڑ کر رکھنا جہاں تکلیف کا موجب ہے کہ انسان زیادہ دیر کھڑا نہیں ہو سکتا وہاں سنت صحیحہ کی مخالفت بھی ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ تھی کہ اپنے دونوں پاؤں کے درمیان مناسب فاصلہ رکھتے تھے، صف بندی میں تو ملنے کے لیے لازماً پاؤں کچھ نہ کچھ کھولنے پڑیں گے، تاہم اپنی جسامت سے زیادہ نہ کھولے۔
➌ سنن ابوداود کی جس روایت میں «صف القدمین من السنة» "پاؤں کو ملانا سنت ہے۔" [سنن ابی داود، الصلاة، حدیث: 754]
کا ذکر ہے تو اس کا مطلب پاؤں کو برابر رکھنا اور انہیں آگے پیچھے نہ رکھنا مراد ہے جیسا کہ تخریج میں صراحت کی گئی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 894 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2021 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´سنت کے مطابق طلاق دینے کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں طلاق سنی یہ ہے کہ عورت کو ہر طہر میں ایک طلاق دے، جب تیسری بار پاک ہو تو آخری طلاق دیدے، اور اس کے بعد عدت ایک حیض ہو گی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2021]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں طلاق سنی یہ ہے کہ عورت کو ہر طہر میں ایک طلاق دے، جب تیسری بار پاک ہو تو آخری طلاق دیدے، اور اس کے بعد عدت ایک حیض ہو گی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2021]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
یہ اس صورت میں ہے جب وہ اس سے بالکل جدا ہونا چاہتا ہو تو اس طرح تیسری طلاق بائن ہوجائے گی جس کے بعد رجوع ممکن نہیں ہوگا لیکن بہتر یہ ہے کہ ایک طلاق کے بعد عدت گزر جانے دے تاکہ بعد میں اگر صلح کرنے کی خواہش پیدا ہوجائے تو نئے سرے سے نکاح کرکے اکٹھے رہ سکیں۔
(2)
اگر ایک طلاق کے بعد رجوع ہوجائے، پھر کبھی دوسری طلاق دے دی جائے تواس دوسری طلاق کے بعد بھی تین حیض عدت ہے جس میں نیا نکاح کیے بغیر رجوع ہوسکتا ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
یہ اس صورت میں ہے جب وہ اس سے بالکل جدا ہونا چاہتا ہو تو اس طرح تیسری طلاق بائن ہوجائے گی جس کے بعد رجوع ممکن نہیں ہوگا لیکن بہتر یہ ہے کہ ایک طلاق کے بعد عدت گزر جانے دے تاکہ بعد میں اگر صلح کرنے کی خواہش پیدا ہوجائے تو نئے سرے سے نکاح کرکے اکٹھے رہ سکیں۔
(2)
اگر ایک طلاق کے بعد رجوع ہوجائے، پھر کبھی دوسری طلاق دے دی جائے تواس دوسری طلاق کے بعد بھی تین حیض عدت ہے جس میں نیا نکاح کیے بغیر رجوع ہوسکتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2021 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3423 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´مسنون طلاق کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ طلاق سنت اس طرح ہے کہ جب عورت پاک ہو اور اس پاکی کے دنوں میں عورت سے جماع نہ کیا ہو تو اسے ایک طلاق دے، پھر جب دوبارہ اسے حیض آئے اور اس حیض سے پاک ہو جائے تو اسے دوسری طلاق دے پھر جب (تیسری بار) حیض سے ہو جائے اور اس حیض سے پاک ہو جائے تو اسے ایک اور طلاق دے۔ پھر اس کے بعد عورت ایک حیض کی عدت گزارے۔ اعمش کہتے ہیں: میں نے ابراہیم نخعی سے پوچھا تو انہوں نے بھی اسی طرح بتایا ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3423]
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ طلاق سنت اس طرح ہے کہ جب عورت پاک ہو اور اس پاکی کے دنوں میں عورت سے جماع نہ کیا ہو تو اسے ایک طلاق دے، پھر جب دوبارہ اسے حیض آئے اور اس حیض سے پاک ہو جائے تو اسے دوسری طلاق دے پھر جب (تیسری بار) حیض سے ہو جائے اور اس حیض سے پاک ہو جائے تو اسے ایک اور طلاق دے۔ پھر اس کے بعد عورت ایک حیض کی عدت گزارے۔ اعمش کہتے ہیں: میں نے ابراہیم نخعی سے پوچھا تو انہوں نے بھی اسی طرح بتایا ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3423]
اردو حاشہ: احناف حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے مذکورہ قول کی وجہ سے مذکورہ طریقے سے تین طلاقیں دینے ہی کوطلاق سنت سمجھتے ہیں‘ حالانکہ یہ عجیب طلاق سنت ہے جس نے یک لخت ایک عورت کو حرام کرکے چھوڑا‘ نیز طلاق تو ایک بھی ممدوح نہیں چہ جائیکہ بلا ضرورت پے درپے تین طلاقیں دے دی جائیں‘ پھر سوچنے کی بات ہے کہ جب ایک طلاق سے عورت خاوند سے جدا ہوسکتی ہے تو کیا ضرورت ہے کہ تین سے پہلے بس نہ کی جائے‘ لہٰذا یہ طلاق سنت نہیں ہوسکتی۔ طلاق سنت یہ ہے کہ بیوی کو طہر کی حالت میں‘ بغیر جماع کیے‘ ایک طلاق دی جائے اور پھر عدت گزرنے کا انتظار کیا جائے۔ ممکن ہو تو عدت کے دوران میں رجوع کرلیا جائے ورنہ رہنے دیا جائے تاکہ اگر بعد میں اتفاق ہوجائے تو نیا نکاح ہوسکے۔ یہ قول بھی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس طلاق کو دلائل کے ساتھ طلاق السنہ ثابت کیا ہے‘ لہٰذا اسی قول کو اخذ کرنا چاہیے تاکہ دوران عدت رجوع اور بعد از عدت نکاح جدید کا راستہ باقی رہے۔ جمہور کا مسلک بھی یہی ہے اور یہی درست ہے۔ ہاں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پہلے قول میں مذکور صورت کو طلاق سنت کہنے کا یہ مطلب ہوسکتا ہے کہ یہ صورت بھی جائز ہے اگرچہ یہ بہتر نہیں۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے نزدیک تو طلاق پر طلاق واقع ہی نہیں ہوتی کیونکہ یہ بے فائدہ ہے مگر جمہور اہل علم اس کے وقوع کے قائل ہیں۔ اور یہی بات صحیح ہے۔ واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3423 سے ماخوذ ہے۔