سنن ابن ماجه
(أبواب كتاب السنة)— (ابواب کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت)
بَابُ : فِيمَا أَنْكَرَتِ الْجَهْمِيَّةُ باب: جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ۔
حدیث نمبر: 202
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَزِيرُ بْنُ صَبِيحٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ حَلْبَسٍ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ سورة الرحمن آية 29 قَالَ : " مِنْ شَأْنِهِ أَنْ يَغْفِرَ ذَنْبًا ، وَيُفَرِّجَ كَرْبًا ، وَيَرْفَعَ قَوْمًا ، وَيَخْفِضَ آخَرِينَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے فرمان : «كل يوم هو في شأن» ” وہ ذات باری تعالیٰ ہر روز ایک نئی شان میں ہے “ ( سورة الرحمن : 29 ) کے سلسلے میں بیان فرمایا : ” اس کی شان میں سے یہ ہے کہ وہ کسی کے گناہ کو بخش دیتا ہے ، کسی کی مصیبت کو دور کرتا ہے ، کسی قوم کو بلند اور کسی کو پست کرتا ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ۔`
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے فرمان: «كل يوم هو في شأن» " وہ ذات باری تعالیٰ ہر روز ایک نئی شان میں ہے " (سورة الرحمن: 29) کے سلسلے میں بیان فرمایا: " اس کی شان میں سے یہ ہے کہ وہ کسی کے گناہ کو بخش دیتا ہے، کسی کی مصیبت کو دور کرتا ہے، کسی قوم کو بلند اور کسی کو پست کرتا ہے۔" [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 202]
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے فرمان: «كل يوم هو في شأن» " وہ ذات باری تعالیٰ ہر روز ایک نئی شان میں ہے " (سورة الرحمن: 29) کے سلسلے میں بیان فرمایا: " اس کی شان میں سے یہ ہے کہ وہ کسی کے گناہ کو بخش دیتا ہے، کسی کی مصیبت کو دور کرتا ہے، کسی قوم کو بلند اور کسی کو پست کرتا ہے۔" [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 202]
اردو حاشہ: (1)
اس حدیث سے اللہ کی صفات فعلیہ کا ثبوت ملتا ہے، جن کا ظہور ہر وقت ہوتا رہتا ہے۔
(2)
اللہ تعالٰی مخلوق کو پیدا کر کے اس سے بے تعلق نہیں ہو گیا جیسا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ مخلوق کے تمام معاملات چند خاص نیک بندوں کے ہاتھوں میں ہیں، اللہ تعالٰی نے انہیں مختار بنا دیا ہے کہ جو چاہیں کریں، حقیقت یہ ہے کہ تمام اختیارات اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں: ﴿أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ﴾ (الاعراف: 54)
’’پیدا کرنا بھی اسی کا کام ہے، اور حکم دینا (اور تمام اختیارات)
بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔‘‘
(3)
گناہوں کی معافی بھی اسی کی شان ہے، اس معاملے میں اللہ اور بندے کے درمیان کوئی واسطہ حائل نہیں، بعض گمراہ لوگ یہاں بھی واسطوں کے قائل ہیں۔
عیسائیوں کے خیال میں گناہوں کی معافی پادری یا پوپ کا کام ہے، ہندوؤں کے خیال میں برہمن کے توسط کے بغیر معبود سے رابطہ ممکن نہیں اور اسی کے ذریعے سے گناہ معاف ہو سکتے ہیں، جبکہ قرآن کہتا ہے: ﴿وَمَن يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللَّهُ﴾ (آل عمران: 135)
’’اللہ کے سوا کون گناہ معاف کر سکتا ہے؟‘‘
اس حدیث سے اللہ کی صفات فعلیہ کا ثبوت ملتا ہے، جن کا ظہور ہر وقت ہوتا رہتا ہے۔
(2)
اللہ تعالٰی مخلوق کو پیدا کر کے اس سے بے تعلق نہیں ہو گیا جیسا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ مخلوق کے تمام معاملات چند خاص نیک بندوں کے ہاتھوں میں ہیں، اللہ تعالٰی نے انہیں مختار بنا دیا ہے کہ جو چاہیں کریں، حقیقت یہ ہے کہ تمام اختیارات اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں: ﴿أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ﴾ (الاعراف: 54)
’’پیدا کرنا بھی اسی کا کام ہے، اور حکم دینا (اور تمام اختیارات)
بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔‘‘
(3)
گناہوں کی معافی بھی اسی کی شان ہے، اس معاملے میں اللہ اور بندے کے درمیان کوئی واسطہ حائل نہیں، بعض گمراہ لوگ یہاں بھی واسطوں کے قائل ہیں۔
عیسائیوں کے خیال میں گناہوں کی معافی پادری یا پوپ کا کام ہے، ہندوؤں کے خیال میں برہمن کے توسط کے بغیر معبود سے رابطہ ممکن نہیں اور اسی کے ذریعے سے گناہ معاف ہو سکتے ہیں، جبکہ قرآن کہتا ہے: ﴿وَمَن يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللَّهُ﴾ (آل عمران: 135)
’’اللہ کے سوا کون گناہ معاف کر سکتا ہے؟‘‘
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 202 سے ماخوذ ہے۔