حدیث نمبر: 2012
حدثنا هشام بن عمار حدثنا يحيى بن حمزة عن عمرو بن مهاجر أنه سمع أباه المهاجر بن أبي مسلم يحدث عن أسماء بنت يزيد بن السكن وكانت مولاته أنها سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «لا تقتلوا أولادكم سرا فوالذي نفسي بيده إن الغيل ليدرك الفارس على ظهر فرسه حتى يصرعه».
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” اپنی اولاد کو خفیہ طور پر قتل نہ کرو ، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے «غیل» سوار کو گھوڑے کی پیٹھ پر سے گرا دیتا ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب النكاح / حدیث: 2012
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سنن أبي داود (3881), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 450
تخریج حدیث « سنن ابی داود/الطب 16 ( 3881 ) ، ( تحفة الأشراف : 15777 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 6/453 ، 45 ، 458 ) ( حسن ) ( المشکاة و تراجع الألبانی : رقم : 397 و صحیح ابن ماجہ : 1648 ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 3881

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´مدت رضاعت میں بیوی سے جماع کرنے کا بیان۔`
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: اپنی اولاد کو خفیہ طور پر قتل نہ کرو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے «غیل» سوار کو گھوڑے کی پیٹھ پر سے گرا دیتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 2012]
اردو حاشہ:
فائدہ: گھوڑے سے گرانے کا مطلب یہ ہے کہ غیلہ کی وجہ سے حاصل ہونے والی کمزوری کا اثر زندگی بھر قائم رہتا ہے حتی کہ جب ایسا بچہ جوان ہوکر شہسوار بن جاتا ہے، تب بھی وہ اس سوار کا مقابلہ نہیں کرسکتا جسے بچپن میں یہ صورت حال پیش نہیں آئی، تاہم یہ حدیث ضعیف ہے، لہٰذا اس قدر احتیاط ضروری نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2012 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3881 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´رضاعت کے دوران عورت سے جماع کرنا کیسا ہے؟`
اسماء بنت یزید بن سکن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اپنی اولاد کو خفیہ قتل نہ کرو کیونکہ رضاعت کے دنوں میں مجامعت شہسوار کو پاتی ہے تو اسے اس کے گھوڑے سے گرا دیتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3881]
فوائد ومسائل:
یہ رویت ضعیف ہے۔
اس کے بالمقابل درجِ ذیل حدیث صحیح ہے۔
یعنی یہ اثر ہونا کو ئی ضروری نہیں، اس لیئے شرعاَ اس کی کو ئی ممانعت نہیں۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3881 سے ماخوذ ہے۔