حدیث نمبر: 2008
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ جُمَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، عَنْ عِكرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَسْلَمَتْ فَتَزَوَّجَهَا رَجُلٌ ، قَالَ : فَجَاءَ زَوْجُهَا الْأَوَّلُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي قَدْ كُنْتُ أَسْلَمْتُ مَعَهَا وَعَلِمَتْ بِإِسْلَامِي ، قَالَ : " فَانْتَزَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَوْجِهَا الْآخَرِ وَرَدَّهَا إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اسلام قبول کیا ، اور اس سے ایک شخص نے نکاح کر لیا ، پھر اس کا پہلا شوہر آیا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول ! میں اپنی عورت کے ساتھ ہی مسلمان ہوا تھا ، اور اس کو میرا مسلمان ہونا معلوم تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو دوسرے شوہر سے چھین کر پہلے شوہر کے حوالے کر دیا ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب النكاح / حدیث: 2008
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سنن أبي داود (2238،2239) ترمذي (1144), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 450
تخریج حدیث « سنن ابی داود/الطلاق 23 ( 2238 ، 2239 ) ، سنن الترمذی/النکاح 42 ( 1144 ) ، ( تحفة الأشراف : 6107 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/232 ، 323 ) ( ضعیف ) » ( سند میں حفص بن جمیع ضعیف راوی ہیں ، اور سماک کی عکرمہ سے روایت میں اضطراب ہے )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 2239 | بلوغ المرام: 863

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2239 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´میاں بیوی میں سے کوئی ایک مسلمان ہو جائے اس کے حکم کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت مسلمان ہو گئی اور اس نے نکاح بھی کر لیا، اس کے بعد اس کا شوہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں اسلام لے آیا تھا اور اسے میرے اسلام لانے کا علم تھا چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے شوہر سے اسے چھین کر اس کے پہلے شوہر کو لوٹا دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2239]
فوائد ومسائل:

روایت سنداًضعیف ہے تاہم مسئلہ یہی ہے کہ زوجین میں سے کسی ایک کے اسلام قبول کرنے سے تفریق ہوجاتی ہے۔
لیکن اگر عدت کے دوران میں شوہر بھی مسلمان ہوجائےتو وہ عورت اسی خاوند کی زوجیت میں رہے گی۔
بعد ازاں اگر وہ اپنے سابقہ شوہر کا انتظار نہ کرے تو کسی مسلمان سے نکاح کرلینے میں حق بجانب ہے۔
لیکن اگر وہ انتظار کرے حتی کہ وہ مسلمان ہو جائےخواہ مدت طویل ہی ہوجائےتوکوئی حرج نہیں۔
جیسے کہ درج ذیل باب اور حدیث میں آرہا ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2239 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 863 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´کفو (مثل، نظیر اور ہمسری) اور اختیار کا بیان`
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے اسلام قبول کیا۔ پھر نکاح بھی کر لیا اتنے میں اس کا پہلا خاوند آ گیا اور عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے اسلام قبول کر لیا تھا میرے قبول اسلام کا اسے علم بھی تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (عورت) کو اس (دوسرے شوہر) سے چھین کر پہلے خاوند کی طرف اسے لوٹا دیا۔ اسے احمد، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے، ابن حبان اور حاکم نے صحیح کہا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 863»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الطلاق، باب إذا أسلم أحد الزوجين، حديث:2239، وابن ماجه، النكاح، حديث:2008، وأحمد:1 /364، وابن حبان (الإحسان):6 /182، حديث:4147، والحاكم:2 /200 وصححه، ووافقه الذهبي.* سماك عن عكرمة، سلسلة ضعيفة.»
تشریح: مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے‘ تاہم مسئلہ یہی ہے کہ اختلاف دین کی وجہ سے جب میاں بیوی کے درمیان جدائی اور علیحدگی واقع ہو جائے کہ عورت اسلام قبول کر لے‘ پھر عورت کے ایام عدت میں مرد بھی مسلمان ہو جائے اور اس عورت کو مرد کے قبول اسلام کا علم بھی ہوگیا ہو تو ایسی صورت میں وہ دوسری جگہ نکاح کرنے کی قطعاً مجاز نہیں‘ اگر کرے گی تو نکاح باطل قرار دیا جائے گا۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 863 سے ماخوذ ہے۔