سنن ابن ماجه
كتاب النكاح— کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
بَابُ : مَتَى يُسْتَحَبُّ الْبِنَاءُ بِالنِّسَاءِ باب: دلہن کی رخصتی کا بہتر وقت کون سا ہے؟
حدیث نمبر: 1991
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ فِي شَوَّالٍ وَجَمَعَهَا إِلَيْهِ فِي شَوَّالٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوبکر بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے شوال میں شادی کی اور ان سے شوال ہی میں ملن بھی کیا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: شوال کا مہینہ عید اور خوشی کا مہینہ ہے، اس وجہ سے اس میں نکاح کرنا بہتر ہے، عہد جاہلیت میں لوگ اس مہینہ کو منحوس سمجھتے تھے، رسول اکرم ﷺ نے ان کے خیال کو غلط ٹھہرایا اور اس مہینہ میں نکاح کیا، اور دخول بھی اسی مہینے میں کیا، گو ہر ماہ میں نکاح جائز ہے مگر جس مہینہ کو عوام بغیر دلیل شرعی کے عورتوں کی تقلید سے یا کافروں اور فاسقوں کی تقلید سے منحوس سمجھیں اس میں نکاح کرنا چاہئے، تاکہ عوام کے دل سے یہ غلط عقیدہ نکل جائے، شرع کی رو سے شوال، محرم یا صفر کا مہینہ کوئی منحوس نہیں ہے، اس لیے بے کھٹکے ان مہینوں میں نکاح کرنا چاہئے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´دلہن کی رخصتی کا بہتر وقت کون سا ہے؟`
ابوبکر بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے شوال میں شادی کی اور ان سے شوال ہی میں ملن بھی کیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1991]
ابوبکر بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے شوال میں شادی کی اور ان سے شوال ہی میں ملن بھی کیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1991]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
اس حدیث کی سند کا آخری حصہ یوں ذکر ہوا ہے: (عن عبدالملک بن الحارث بن ہشام عن أبیه ان النبي ﷺ---)
انہوں نے عبدالملک بن حارث بن هشام سے انہوں نے اپنے والد سے رایت کیا کہ نبی ﷺ نے۔
۔
۔‘‘
اس پر البانی رحمہ اللہ نے ضعیف سنن ابن ماجہ میں نوٹ دیا ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں: (و أبو الملک هو أبو بکر بن عبدالرحمن بن الحارث بن هشام المخزومی)
’’عبدالملک کے والد ابو بکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام مخزومی ہیں۔‘‘
زہیر شادیش (کتاب کے ناشر)
نے حاشہ لکھا ہے (ولکن أشکل علیب ماکتبه أستاذنا ناصر الدین من أن عبدالرحمن بن الحارث له کنیتان: أبو الملک وأبو بکر)
’’علامہ ناصرالدین البانی کی تحریر کردہ یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی کہ عبدالرحمن بن حارث کی دو کنیتیں ہیں: ابوعبدالملک اور ابو بکر‘‘ پھر شادیش صاحب نے تفصیل سے بحث کر کے یہ نتیجہ نکالا ہے: ’’شاید یہاں سبقت قلم ہوگئی ہے۔
واللہ اعلم میرے خیال میں یہاں زہیر شادیش کو علامہ ناصر الدین البانی کا کلام سمجھنے میں غلطی لگی ہے۔
البانی رحمہ الہ نے یہ نہیں فرمایا کہ عبدالرحمن کی دوکنیتیں ہیں جن میں اسے ایک ابو عبد الملک ہے بلکہ یہ واضح فریا ہے کہ سند میں ’’عبدالملک بن الحارث بن ھشام عن ابیه‘‘ ان سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ عبد الملک کے والد حضرت حارث بن ہشام ہیں جن سے وہ روایت کر رہے ہیں بلکہ عبدالملک بن ابی بکر بن عبدالرحمن بن الحارث بن ہشام ہے۔
اور وہ اپنے والد ’’ابو بکر بن عبدالرحمن بن الحارث بن ہشام ‘‘ سے اور یہ ابو بکر بن عبدالرحمن صحابی نہیں بلکہ تابعی ہیں جو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کے موقع پر موجود نہیں ہو سکتے اس لیے یہ حدیث مرسل ہے۔
واللہ اعلم
فوائد و مسائل:
اس حدیث کی سند کا آخری حصہ یوں ذکر ہوا ہے: (عن عبدالملک بن الحارث بن ہشام عن أبیه ان النبي ﷺ---)
انہوں نے عبدالملک بن حارث بن هشام سے انہوں نے اپنے والد سے رایت کیا کہ نبی ﷺ نے۔
۔
۔‘‘
اس پر البانی رحمہ اللہ نے ضعیف سنن ابن ماجہ میں نوٹ دیا ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں: (و أبو الملک هو أبو بکر بن عبدالرحمن بن الحارث بن هشام المخزومی)
’’عبدالملک کے والد ابو بکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام مخزومی ہیں۔‘‘
زہیر شادیش (کتاب کے ناشر)
نے حاشہ لکھا ہے (ولکن أشکل علیب ماکتبه أستاذنا ناصر الدین من أن عبدالرحمن بن الحارث له کنیتان: أبو الملک وأبو بکر)
’’علامہ ناصرالدین البانی کی تحریر کردہ یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی کہ عبدالرحمن بن حارث کی دو کنیتیں ہیں: ابوعبدالملک اور ابو بکر‘‘ پھر شادیش صاحب نے تفصیل سے بحث کر کے یہ نتیجہ نکالا ہے: ’’شاید یہاں سبقت قلم ہوگئی ہے۔
واللہ اعلم میرے خیال میں یہاں زہیر شادیش کو علامہ ناصر الدین البانی کا کلام سمجھنے میں غلطی لگی ہے۔
البانی رحمہ الہ نے یہ نہیں فرمایا کہ عبدالرحمن کی دوکنیتیں ہیں جن میں اسے ایک ابو عبد الملک ہے بلکہ یہ واضح فریا ہے کہ سند میں ’’عبدالملک بن الحارث بن ھشام عن ابیه‘‘ ان سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ عبد الملک کے والد حضرت حارث بن ہشام ہیں جن سے وہ روایت کر رہے ہیں بلکہ عبدالملک بن ابی بکر بن عبدالرحمن بن الحارث بن ہشام ہے۔
اور وہ اپنے والد ’’ابو بکر بن عبدالرحمن بن الحارث بن ہشام ‘‘ سے اور یہ ابو بکر بن عبدالرحمن صحابی نہیں بلکہ تابعی ہیں جو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کے موقع پر موجود نہیں ہو سکتے اس لیے یہ حدیث مرسل ہے۔
واللہ اعلم
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1991 سے ماخوذ ہے۔