حدیث نمبر: 1973
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ سُمَيَّةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ فِي شَيْءٍ ، فَقَالَتْ صَفِيَّةُ : يَا عَائِشَةُ ، هَلْ لَكِ أَنْ تُرْضِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِّي وَلَكِ يَوْمِي ؟ ، قَالَتْ : نَعَمْ ، فَأَخَذَتْ خِمَارًا لَهَا مَصْبُوغًا بِزَعْفَرَانٍ ، فَرَشَّتْهُ بِالْمَاءِ لِيَفُوحَ رِيحُهُ ، ثُمَّ قَعَدَتْ إِلَى جَنْبِ رَسُولُ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَائِشَةُ إِلَيْكِ عَنِّي إِنَّهُ لَيْسَ يَوْمَكِ " ، فَقَالَتْ : ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ ، فَأَخْبَرَتْهُ بِالْأَمْرِ فَرَضِيَ عَنْهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا پر کسی وجہ سے ناراض ہو گئے ، تو صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا : عائشہ ! کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مجھ سے راضی کر سکتی ہو ، اور میں اپنی باری تم کو ہبہ کر دوں گی ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، چنانچہ انہوں نے زعفران سے رنگا ہوا اپنا دوپٹہ لیا ، اور اس پہ پانی چھڑکا تاکہ اس کی خوشبو پھوٹے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں بیٹھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عائشہ مجھ سے دور ہو جاؤ ، آج تمہاری باری نہیں ہے “ ، تو انہوں نے کہا : یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے دیتا ہے ، اور پورا قصہ بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صفیہ رضی اللہ عنہا سے راضی ہو گئے ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب النكاح / حدیث: 1973
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 17844 ، ومصباح الزجاجة : 697 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 6/95 ، 145 ) ( ضعیف ) » ( سند میں سمیہ بصریہ غیر معروف ہے )