حدیث نمبر: 1968
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عِمْرَانَ الْجَعْفَرِيُّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَخَيَّرُوا لِنُطَفِكُمْ ، وَانْكِحُوا الْأَكْفَاءَ وَأَنْكِحُوا إِلَيْهِمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے نطفوں کے لیے نیک عورت کا انتخاب کرو ، اور اپنے برابر والوں سے نکاح کرو ، اور انہیں کو اپنی بیٹیوں کے نکاح کا پیغام دو “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: «اکفاء» «کفو» کی جمع ہے، کاف کے ضمہ اور خاء کے سکون کے ساتھ اس کے معنی مثل، نظیر اور ہمسر کے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب النكاح / حدیث: 1968
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف جدا منكر, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 449
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 16784 ، ومصباح الزجاجة : 696 ) ( حسن ) » ( سند میں الحارث الجعفری ضعیف ہیں ، لیکن متابعت کی وجہ سے یہ حدیث حسن ہے ، ملاحظہ ہو : الصحیحة : 1067 )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´(شادی میں) کفو کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے نطفوں کے لیے نیک عورت کا انتخاب کرو، اور اپنے برابر والوں سے نکاح کرو، اور انہیں کو اپنی بیٹیوں کے نکاح کا پیغام دو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1968]
اردو حاشہ:
فائدہ: ہم مرتبہ سے مراد دینی لحاظ سے ہم مرتبہ ہے جیسے گزشتہ حدیث سے واضح ہے۔
یہ روایت بعض حضرات کےنزدیک حسن ہے۔
دیکھئے: (الصحیحة، رقم: 1067)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1968 سے ماخوذ ہے۔