سنن ابن ماجه
(أبواب كتاب السنة)— (ابواب کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت)
بَابُ : فِيمَا أَنْكَرَتِ الْجَهْمِيَّةُ باب: جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ لَا يَنَامُ ، وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ ، حِجَابُهُ النُّورُ لَوْ كَشَفَهَا لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ كُلَّ شَيْءٍ أَدْرَكَهُ بَصَرُهُ " ، ثُمَّ قَرَأَ أَبُو عُبَيْدَةَ : أَنْ بُورِكَ مَنْ فِي النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا وَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة النمل آية 8 .
´ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک اللہ تعالیٰ سوتا نہیں اور اس کے لیے مناسب بھی نہیں کہ سوئے ، میزان کو جھکاتا اور بلند کرتا ہے ، اس کا حجاب نور ہے ، اگر وہ اس حجاب کو ہٹا دے تو اس کے چہرے کی تجلیاں ان تمام چیزوں کو جلا دیں جہاں تک اس کی نظر جائے “ ، پھر ابوعبیدہ نے آیت کریمہ کی تلاوت فرمائی : «أن بورك من في النار ومن حولها وسبحان الله رب العالمين» ” کہ بابرکت ہے وہ جو اس آگ میں ہے اور برکت دیا گیا ہے وہ جو اس کے آس پاس ہے اور اللہ جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے “ ( سورة النمل : 8 ) ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بیشک اللہ تعالیٰ سوتا نہیں اور اس کے لیے مناسب بھی نہیں کہ سوئے، میزان کو جھکاتا اور بلند کرتا ہے، اس کا حجاب نور ہے، اگر وہ اس حجاب کو ہٹا دے تو اس کے چہرے کی تجلیاں ان تمام چیزوں کو جلا دیں جہاں تک اس کی نظر جائے “، پھر ابوعبیدہ نے آیت کریمہ کی تلاوت فرمائی: «أن بورك من في النار ومن حولها وسبحان الله رب العالمين» ” کہ بابرکت ہے وہ جو اس آگ میں ہے اور برکت دیا گیا ہے وہ جو اس کے آس پاس ہے اور اللہ جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے “ (سورة النمل: 8)۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 196]
یہ دنیا کی آگ نہ تھی بلکہ اللہ کا نور تھا جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے حِجَابُهُ النُّوْر کہ اس کا پردہ نور یا آگ ہے۔
(2)
اور جو اس کے آس پاس ہے۔
یعنی حضرت موسی علیہ السلام اور فرشتے۔ (تفسیر ابن جریر: 11؍165)
دن کا عمل، رات کے آغاز میں اس کے چھانے سے، رات کا عمل دن کے آغاز میں، دن کے چڑھنے سے پہلے پیش کیا جاتا ہے، اس لیے دونوں حدیثوں میں تضاد نہیں ہے۔
: (1)
لَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ: سونا اس کے لیے ناممکن ہے، کیونکہ سونا، غفلت اور بے خبری کی اور احتیاج کی علامت ہے، اس سے ہوش و حواس قائم نہیں رہتے، اور اللہ کے لیے یہ سب چیزیں مستحیل (ناممکن)
ہیں۔
(2)
يَخْفِضُ الْقِسْطَ: ترازو جھکاتا ہے، قسط کا اصل معنی ’’عدل و انصاف‘‘ ہے اور ترازو عدل کا آلہ ہے، اس لیے اس کو بھی قسط کہہ دیتے ہیں۔
(3)
قِسْط (میزان، ترازو)
سے اوپر چڑھنے والے اعمال اور نیچے اترنے والے رزق، تولے جاتے ہیں۔
(4)
حِجَابُهُ النُّورُ: اس کی رؤیت و دیدار میں نور کا پردہ حائل ہے، اس کی نگاہ تمام مخلوق تک پہنچتی ہے، اگر وہ اپنا حجاب اٹھا لے تو اس کے روئے مبارک کی تجلی کے سامنے کوئی چیز نہ ٹھہر سکے۔
(5)
سُبُحَات: سبحة کی جمع ہے۔
اور اس سے مراد چہرے کا نور اور جلال ہے، اس کے نور، چہرے اور بصر کی تاویل کرنا، یا تعطیل کرتے ہوئے اس کی نفی کرنا یا کسی مخلوق سے تشبیہ و تمثیل دینا غلط ہے۔
اس کی ذات جس طرح بے مثال ہے، اس طرح اس کے لیے جو صفات اور اعضاء کے الفاظ آئے ہیں، وہ بھی بے مثال ہیں، ان کی کیفیت و حقیقت کو بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔
فوائد ومسائل:
(1)
اعمال اور ارزاق کے تولنے کے لیے ترازو ہے، ترازو کی کیفیت کو معلوم کرنا ممکن نہیں۔
(2)
رات کے اعمال نیک وبد، دن کی آمد سے پہلے اور دن کے اعمال رات کی آمد سے پہلے اوپر لے جائے جاتے ہیں، جس سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ اوپر ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ کے علو اور اس کی فوقیت کا انکار، مختلف حیلوں، بہانوں یا تاویلات کے ذریعہ سے درست نہیں ہے۔
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور پانچ باتیں بیان فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ سوتا نہیں اور اس کے لیے مناسب بھی نہیں کہ سوئے، میزان کو اوپر نیچے کرتا ہے، رات کا عمل دن کے عمل سے پہلے اور دن کا عمل رات کے عمل سے پہلے اس تک پہنچا دیا جاتا ہے، اس کا حجاب نور ہے، اگر اس کو ہٹا دے تو اس کے چہرے کی تجلیات ان ساری مخلوقات کو جہاں تک اس کی نظر پہنچے جلا دیں “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 195]
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ عزوجل کی بعض صفات بیان فرمائی ہیں، ان پر ایمان رکھنا ضرروی ہے۔
(2)
عقیدے کے مسائل بہت اہم ہیں، لہٰذا انہیں وضاحت سے بیان کرنا چاہیے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اہمیت کے پیش نظر خطبے میں انہیں بیان فرمایا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ سنیں اور سمجھ سکیں۔
(3)
نیند اور آرام مخلوقات کی ضرورت ہے تاکہ کام کرنے سے جوتھکاوٹ اور کمزوری پیدا ہوتی ہے، اس کا مداوا ہو جائے، اللہ تعالیٰ حَیّ و قیوم ہے، جو تمام مخلوقات کو قائم رکھنے والا ہے، اس لیے نہ تو اللہ تعالٰی کو تکھاوٹ لاحق ہوتی ہے، نہ آرام اور نیند کی ضرورت پیش آتی ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿وَلَقَد خَلَقنَا السَّمـوتِ وَالأَرضَ وَما بَينَهُما فى سِتَّةِ أَيّامٍ وَما مَسَّنا مِن لُغوبٍ﴾ (ق: 38)
’’یقینا ہم نے آسمان و زمین، اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، سب کو (صرف)
چھ دن میں پیدا کیا اور ہمیں تکان نے چھوا تک نہیں۔‘‘
اس طرح قرآن مجید نے بائبل کی غلطی کی اصلاح کر دی، بائبل میں عہد قدیم کی کتاب خروج، باب: 20، فقرہ: 11 کے الفاظ یہ ہیں: کیونکہ خداوند نے چھ دن میں آسمان اور زمین اور سمندر اور جو کچھ ان میں ہے، وہ سب بنایا، اور ساتوین دن آرام کیا۔
اس لیے خداوند نے سبت کے دن کو برکت دی اور اسے مقدس ٹھہرایا۔
(4)
میزان (ترازو)
کو جھکانے اور بلند کرنے کا ایک مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ اپنی حکمت کے مطابق کسی کو روزی کم دیتا ہے، کسی کو زیادہ، ایک مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ اعمال اس کی طرف بلند ہوتے ہیں، اور رزق اس کے پاس سے نازل ہوتا ہے، جس طرح تولتے وقت ترازو کے پلڑے اوپر نیچے ہوتے ہیں۔
(5)
اعمال اللہ ہی کے سامنے پیش ہوتے ہیں، کسی اور کے سامنے نہیں، لہذا عمل کرتے وقت اس کی رضا پیش نظر رہنی چاہیے۔
(6)
اعمال کی یہ پیشی مختلف اعتبارات سے الگ الگ مدت کے بعد ہوتی ہے، جیسے اس حدیث میں ہے کہ چوبیس گھنٹے میں دو بار عمل پیش ہوتےہیں، دوسری حدیث میں ہے کہ سوموار اور جمعرات کو بندوں کے اعمال اللہ کے حضور پیش کیے جاتے ہیں۔ (صحيح مسلم، البر و الصلة والادب، باب النهي عن الشحناء والتهاجر، حديث: 2565)
والله أعلم.
(7)
بندہ اس فانی جسم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی زیارت نہیں کر سکتا۔
نور کا پردہ اس کے اور مخلوق کے درمیان حائل ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا، کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ نور ہے، میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں؟ ایک حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا: میں نے ایک نور دیکھا ہے۔ (صحيح مسلم، الايمان، باب في قوله عليه السلام: نور أني أراه، وفي قوله: رأيت نورا، حديث: 178)
یعنی صرف نور کا پردہ دیکھا ہے، ذات اقدس کی زیارت نہیں ہوئی، البتہ جنت میں مومنوں کو اللہ تعالیٰ کی زیارت ہو گی جیسے گزشتہ احادیث میں بیان ہوا۔
(8)
اس فانی کائنات کی کوئی چیز اللہ کی تجلی برداشت نہیں کر سکتی۔
جب اللہ تعالیٰ نے کوہ طور پر تجلی فرمائی، تو پہاڑ بھی اسے برداشت نہ کر سکا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے ﴿فَلَمّا تَجَلّى رَبُّهُ لِلجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا﴾ (الاعراف: 143)
’’جب اس کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی تو اس (تجلی)
نے اس کے پرخچے اڑا دیے۔‘‘
«. . . وَعَن أبي مُوسَى قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ فَقَالَ: «إِنَّ اللَّهَ عز وَجل لَا يَنَامُ وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلَ عَمَلِ النَّهَارِ وَعَمَلُ النَّهَارِ قَبْلَ عَمَلِ اللَّيْل حجابه النُّور» . رَوَاهُ مُسلم . . .»
”. . . سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان میں وعظ فرمانے کے لیے کھڑے ہوئے اس وقت میں اس وعظ میں یہ پانچ باتیں خصوصیت سے فرمائیں: اللہ تعالیٰ سوتا نہیں ہے، اور نہ اس کے لیے سونا مناسب ہے، اور وہ روزی کی ترازو کو کبھی نیچا کرتا ہے اور کبھی اونچا کرتا ہے، اس کی طرف رات کا عمل دن کے عمل سے پہلے چڑھتا ہے اور دن کا کام رات کے کام سے پہلے اس کے پاس پہنچتا ہے، اور اس کا پردہ نور ہے اگر وہ اس پردہ کو ہٹا دے تو اس ذات پاک کا نور جہاں تک اس کی مخلوقات کی نگاہ پہنچے سب کو جلا دے۔ اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 91]
[صحيح مسلم 445]
فقہ الحدیث:
➊ اللہ کی بصر ساری کائنات کو محیط ہے۔ اس کی بصر، علم اور قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں ہے۔
➋ اللہ جسے چاہتا ہے، نیکی کی توفیق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے، گمراہیوں میں بھٹکا ہوا چھوڑ دیتا ہے۔ سب اسی کی تقدیر کے مطابق ہو رہا ہے۔
➌ دنیا میں اللہ تعالیٰ کو دیکھنا ممکن نہیں ہے، لیکن دوسرے دلائل سے یہ ثابت ہے کہ آخرت میں اہل ایمان اپنے رب کا دیدار کریں گے . نیز ان لوگوں کے دعوے کی بھی نفی ہوتی ہے جو کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں بیداری کی حالت میں اللہ کو دیکھا ہے .
➍ میزان حق ہے اور بندوں کے اعمال تولے جائیں گے۔
➎ نیند اللہ تعالیٰ کے شایان شان نہیں بلکہ اسے تو اونگھ بھی نہیں آتی۔ «سبحان الله»