حدیث نمبر: 1959
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا تَزَوَّجَ الْعَبْدُ بِغَيْرِ إِذْنِ سَيِّدِهِ كَانَ عَاهِرًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” غلام اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح کر لے تو وہ زانی ہے “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: جابر رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں ہے کہ نکاح باطل ہے، اسی وجہ سے اس حدیث میں اسے زانی کہا گیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب النكاح / حدیث: 1959
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن عقيل: ضعيف, وللحديث شواهد ضعيفة عند ابن ماجه(1960) وأبي داود (2078) وغيرھما, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 449
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 7286 ، ومصباح الزجاجة : 693 ) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/النکاح 17 ( 2078 ) ، سنن الترمذی/النکاح 20 ( 1111 ) ، مسند احمد ( 3/301 ، 377 ، 383 ) ، سنن الدارمی/النکاح 40 ( 2279 ) ( حسن ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 2079 | سنن ابن ماجه: 1960

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2079 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´غلام اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کر لے تو اس کے حکم کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب غلام اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو اس کا نکاح باطل ہے۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ضعیف، اور موقوف ہے، یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2079]
فوائد ومسائل:
پہلی روایت صحیح ہے جس سے مسئلے کا اثبات واضح ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2079 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1960 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´غلام کا نکاح مالک کی اجازت کے بغیر ناجائز ہے۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس غلام نے اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح کر لیا، تو وہ زانی ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1960]
اردو حاشہ:
فائدہ: مذکورہ دونوں روایتوں کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے إرواء الغلیل میں اس مسئلہ کی بابت حضرت جابر سے مرفوعاً روایت بیان کی ہے اور اسے حسن قرار دیا ہے اور اس کے شواہد کا بھی تفصیل سے ذکر کیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیئے: (إرواء الغلیل: 6؍351، 353، رقم: 1933)
بنا بریں جس طرح عورت کے لیے والد یا سرپرست کی اجازت کے بغیر نکاح کرنا شرعاً منع ہے اسی طرح غلام کے لیے بھی آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کرنا درست نہیں۔
اس میں یہ حکمت ہے کہ نکاح کے بعد اسے اپنے بیوی بچوں کی طرف توجہ دینی پڑے گی جس سے آقا کی خدمت میں فرق آئے گا، اس لیے اگر آقا احسان کرتے ہوئے اپنے حقوق میں کچھ کمی کرنے پر آمادہ ہو تو غلام کو چاہیے کہ نکاح کر لے، ورنہ صبر کے۔
اور آقا کو چاہیے کہ غلام کو اجازت دے دے تاکہ غلام اپنی عصمت و عفت کو محفوظ رکھ سکے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1960 سے ماخوذ ہے۔