مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 1931
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا ، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عورت سے اس کی پھوپھی کے عقد میں ہوتے ہوئے نکاح نہ کیا جائے ، اور نہ ہی اس کی خالہ کے عقد میں ہوتے ہوئے اس سے نکاح کیا جائے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب النكاح / حدیث: 1931
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: صحيح

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´بھتیجی اور پھوپھی یا بھانجی اور خالہ کو نکاح میں جمع کرنے کی حرمت۔`
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت سے اس کی پھوپھی کے عقد میں ہوتے ہوئے نکاح نہ کیا جائے، اور نہ ہی اس کی خالہ کے عقد میں ہوتے ہوئے اس سے نکاح کیا جائے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1931]
اردو حاشہ:
فائدہ: ایک بیوی کی وفات یا طلاق کے بعد اس کی خالہ یا اس کی بھانجی، یا اس کی پھوپھی یا اس کی بھتیجی سے نکاح کیا جا سکتا ہے۔
اسی طرح دو بہنیں بیک وقت ایک مرد کے نکاح میں نہیں رہ سکتیں۔
ایک کی وفات یا طلاق کے بعد دوسری سے نکاح کرنا درست ہے۔ (النساء: 23)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1931 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔