سنن ابن ماجه
(أبواب كتاب السنة)— (ابواب کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت)
بَابُ : فِيمَا أَنْكَرَتِ الْجَهْمِيَّةُ باب: جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ الْهَمْدَانِيُّ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمِيرَةَ ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، قَالَ : كُنْتُ بِالْبَطْحَاءِ فِي عِصَابَةٍ وَفِيهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّتْ بِهِ سَحَابَةٌ فَنَظَرَ إِلَيْهَا ، فَقَالَ : " مَا تُسَمُّونَ هَذِهِ ؟ " ، قَالُوا : السَّحَابُ ، قَالَ : " وَالْمُزْنُ " ، قَالُوا : وَالْمُزْنُ ، قَالَ : " وَالْعَنَانُ " ، قَال أَبُو بَكْرٍ : قَالُوا : وَالْعَنَانُ ، قَالَ : " كَمْ تَرَوْنَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ السَّمَاءِ ؟ " ، قَالُوا : لَا نَدْرِي ، قَالَ : " فَإِنَّ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهَا إِمَّا وَاحِدًا ، أَوِ اثْنَيْنِ ، أَوْ ثَلَاثًا وَسَبْعِينَ سَنَةً ، وَالسَّمَاءُ فَوْقَهَا كَذَلِكَ حَتَّى عَدَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ ، ثُمَّ فَوْقَ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ بَحْرٌ بَيْنَ أَعْلَاهُ وَأَسْفَلِهِ كَمَا بَيْنَ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ ، ثُمَّ فَوْقَ ذَلِكَ ثَمَانِيَةُ أَوْعَالٍ بَيْنَ أَظْلَافِهِنَّ وَرُكَبِهِنَّ كَمَا بَيْنَ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ ، ثُمَّ عَلَى ظُهُورِهِنَّ الْعَرْشُ بَيْنَ أَعْلَاهُ وَأَسْفَلِهِ كَمَا بَيْنَ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ ، ثُمَّ اللَّهُ فَوْقَ ذَلِكَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى " .
´عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں ایک جماعت کے ہمراہ مقام بطحاء میں تھا ، اور ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود تھے کہ بادل کا ایک ٹکڑا گزرا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا : ” تم لوگ اس کو کیا کہتے ہو ؟ “ ، لوگوں نے کہا : «سحاب» ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «مزن» بھی ؟ “ ، انہوں نے کہا : جی ہاں ، «مزن» بھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «عنان» بھی ؟ “ ، لوگوں نے کہا : «عنان» بھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے اور آسمان کے درمیان کتنا فاصلہ جانتے ہو ؟ “ ، لوگوں نے کہا : ہم نہیں جانتے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے اور اس کے درمیان اکہتر ( ۷۱ ) ، بہتر ( ۷۲ ) ، یا تہتر ( ۷۳ ) سال کی مسافت ہے ، پھر اس کے اوپر آسمان کی بھی اتنی ہی مسافت ہے “ ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح سات آسمان شمار کیے ، پھر فرمایا : ” ساتویں آسمان پر ایک سمندر ہے ، اس کے نچلے اور اوپری حصہ کے درمیان اتنی ہی مسافت ہے جتنی کہ دو آسمانوں کے درمیان میں ہے ، پھر اس کے اوپر آٹھ فرشتے پہاڑی بکروں کی طرح ہیں ، ان کے کھروں اور گھٹنوں کے درمیان اتنی دوری ہے جتنی کہ دو آسمانوں کے درمیان ہے ، پھر ان کی پیٹھ پر عرش ہیں ، اس کے نچلے اور اوپری حصہ کے درمیان اتنی مسافت ہے جتنی کہ دو آسمانوں کے درمیان میں ہے ، پھر اس کے اوپر اللہ تعالیٰ ہے جو بڑی برکت والا ، بلند تر ہے “ ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں وادی بطحاء میں صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا اور آپ بھی انہیں لوگوں میں تشریف فرما تھے، اچانک لوگوں کے اوپر سے ایک بدلی گزری، لوگ اسے دیکھنے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ” کیا تم جانتے ہو اس کا نام کیا ہے؟ “ لوگوں نے کہا: جی ہاں ہم جانتے ہیں، یہ «سحاب» ہے، آپ نے فرمایا: ” کیا یہ «مزن» ہے؟ “ لوگوں نے کہا: جی ہاں یہ «مزن» بھی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کیا اسے «عنان» ۱؎ بھی کہتے ہیں “، لوگوں نے کہا: جی ہاں یہ «عنان» بھی ہے، پھر آپ نے لوگوں سے ک۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3320]
وضاحت:
1؎:
یہ تینوں نام بدلیوں کے مختلف نام ہیں جو مختلف طرح کی بدلیوں کے لیے وضع کیے گئے ہیں۔
2؎:
یعنی اگر موسم حج میں یہ حدیث بیان کی جاتی اورجہمیوں کو اس کا پتہ چل جاتا توخواہ مخواہ کے اعتراضات نہ اٹھاتے۔
نوٹ:
(سند میں عبد اللہ بن عمیرہ لین الحدیث راوی ہیں)