سنن ابن ماجه
كتاب النكاح— کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
بَابُ : نِكَاحِ الصِّغَارِ يُزَوِّجُهُنَّ الآبَاءُ باب: باپ نابالغ بچیوں کا نکاح کر سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 1877
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِشَةَ وَهِيَ بِنْتُ سَبْعٍ ، وَبَنَى بِهَا وَهِيَ بِنْتُ تِسْعٍ ، وَتُوُفِّيَ عَنْهَا وَهِيَ بِنْتُ ثَمَانِي عَشْرَةَ سَنَةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا ، اس وقت ان کی عمر سات برس تھی ، اور ان کے ساتھ خلوت کی تو ان کی عمر نو سال تھی ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو اس وقت ان کی عمر اٹھارہ سال تھی ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے فضائل و مناقب بے شمار ہیں، اور وہ آپ ﷺ کی تمام بیویوں میں خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا کے بعد سب سے افضل ہیں، اور بعضوں نے خدیجہ الکبری سے بھی ان کو افضل کہا ہے، غرض وہ آپ ﷺ کی خاص چہیتی تھیں اور آپ کی بیویوں میں صرف وہی کنواری تھیں، اور اس کم سنی میں آپ رضی اللہ عنہا کا یہ حال تھا کہ علم و فضل،قوت حافظہ اور عقل و دانش میں بڑی بوڑھی عورتوں سے سبقت لے گئی تھیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´باپ نابالغ بچیوں کا نکاح کر سکتا ہے۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا، اس وقت ان کی عمر سات برس تھی، اور ان کے ساتھ خلوت کی تو ان کی عمر نو سال تھی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو اس وقت ان کی عمر اٹھارہ سال تھی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1877]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا، اس وقت ان کی عمر سات برس تھی، اور ان کے ساتھ خلوت کی تو ان کی عمر نو سال تھی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو اس وقت ان کی عمر اٹھارہ سال تھی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1877]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
حدیث 1876 میں ذکر ہوا کہ نکاح کے وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر مبارک چھ سال کی تھی۔
اور اس حدیث میں ہے کہ اس وقت عمر مبارک سات سال تھی، تاہم پہلی بات زیادہ صحیح ہے۔
صحیحین میں بھی چھ سال ہی مذکور ہے۔ (صحیح البخاري، مناقب الأنصار، باب تزویج النبی ﷺ عائشہ رضی اللہ عنہا وقدومها المدینة وبناته بها، حدیث: 3894، وصحیح مسلم، النکاح، باب جواز تزویج الأب البکر الصغیرۃ، حدیث: 1422)
فوائد و مسائل:
حدیث 1876 میں ذکر ہوا کہ نکاح کے وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر مبارک چھ سال کی تھی۔
اور اس حدیث میں ہے کہ اس وقت عمر مبارک سات سال تھی، تاہم پہلی بات زیادہ صحیح ہے۔
صحیحین میں بھی چھ سال ہی مذکور ہے۔ (صحیح البخاري، مناقب الأنصار، باب تزویج النبی ﷺ عائشہ رضی اللہ عنہا وقدومها المدینة وبناته بها، حدیث: 3894، وصحیح مسلم، النکاح، باب جواز تزویج الأب البکر الصغیرۃ، حدیث: 1422)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1877 سے ماخوذ ہے۔