حدیث نمبر: 1872
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الثَّيِّبُ تُعْرِبُ عَنْ نَفْسِهَا ، وَالْبِكْرُ رِضَاهَا صَمْتُهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عدی کندی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” غیر کنواری عورت اپنی رضا مندی صراحۃً ظاہر کرے ، اور کنواری کی رضا مندی اس کی خاموشی ہے “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: ثیّبہ کا چپ ہو جانا کافی نہیں بلکہ زبان سے ہوں یا ہاں کہنا چاہئے، مراد یہاں کنواری اور ثیبہ سے وہ لڑکی ہے جو جوان اور بالغ ہو گئی ہو، لیکن جو نابالغ ہو اس سے اجازت لینا ضروری نہیں بلکہ ولی کی اجازت کافی ہے، جیسے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا نبی اکرم ﷺ سے نکاح کر دیا تھا، اس وقت ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر صرف چھ برس کی تھی۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب النكاح / حدیث: 1872
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عدي بن عدي لم يسمع من أبيه كما قال أبو حاتم الرازي (كتاب المراسيل ص 152), و الحديث السابق (1870) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 447
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 9882 ، ومصباح الزجاجة : 667 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 4/192 ) ( صحیح ) ( عدی کندی کا اپنے والد عدی بن عمرہ سے سماع نہیں ہے ، لیکن حدیث شواہد کی بناء پر صحیح ہے ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´کنواری اور غیر کنواری دونوں سے شادی کی اجازت لینے کا بیان۔`
عدی کندی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غیر کنواری عورت اپنی رضا مندی صراحۃً ظاہر کرے، اور کنواری کی رضا مندی اس کی خاموشی ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1872]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
عورت اپنا نکاح خود نہیں کرسکتی۔
اس کا نکاح اس کا سرپرست ہی کرے گا، تاہم اس کی رائے کو بھی اہمیت دی جائے گی۔
دونوں کے مشورے سے نکاح ہو گا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1872 سے ماخوذ ہے۔