حدیث نمبر: 1861
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَالِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكُمْ بِالْأَبْكَارِ ، فَإِنَّهُنَّ أَعْذَبُ أَفْوَاهًا ، وَأَنْتَقُ أَرْحَامًا ، وَأَرْضَى بِالْيَسِيرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عویم بن ساعدہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کنواری لڑکیوں سے شادی کیا کرو ، کیونکہ وہ شیریں دہن ہوتی ہیں اور زیادہ بچے جننے والی ہوتی ہیں ، اور تھوڑے پہ راضی رہتی ہیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب النكاح / حدیث: 1861
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, السند مرسل (انظر السنن الكبري للبيهقي 7/ 87), وللحديث شواهد ضعيفة،راجع التلخيص الحبير (145/3), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 447
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 9756 ) ، ومصباح الزجاجة : 661 ) ( حسن ) » ( سند میں عبد الرحمن بن سالم مجہول ہے ، لیکن جابر رضی اللہ عنہ کی مرفوع حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن ہے )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´کنواری لڑکیوں سے شادی کرنے کا بیان۔`
عویم بن ساعدہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کنواری لڑکیوں سے شادی کیا کرو، کیونکہ وہ شیریں دہن ہوتی ہیں اور زیادہ بچے جننے والی ہوتی ہیں، اور تھوڑے پہ راضی رہتی ہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1861]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: (1)
مذکورہ روایت کو ہمارے محقق  نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ  نے اسے دیگر شواہد کی بنا پر صحیح قرار دیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیئے: (الصحیحة، رقم: 623)
بنا بریں بیوہ اور مطلقہ سے بھی نکاح کر لینا چاہیے لیکن اگر بیوہ کا رشتہ بھی مل رہا ہو اور کنواری کا بھی تو کنواری کو ترجیح دینی چاہیے خصوصاً جب کہ مرد نوجوان ہو۔

(2)
شیریں دہن کا مطلب یہ ہے کہ ان میں حیا زیادہ ہوتی ہے اس لیے اپنے خاوند کو خوش رکھنے کی زیادہ کوشش کرتی ہیں اور تلخ لہجے میں بات کرنے سے پرہیز کرتی ہیں۔
بعض علماء نے اس کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ ان کا لعاب دہن زیادہ شیریں ہوتا ہے۔

(3)
جو عورت پہلے ایک خاوند کے ساتھ زندگی گزار چکی ہے اور اس کے بچے ہو چکے ہیں اب نئے شوہر سے اس کے بچے کم ہونے کی توقع ہے جب کہ کنواری لڑکی سے نکاح کے بعد جتنے بچے ہوں گے وہ سب اس خاوند کے ہوں گے۔

(4)
قناعت ایک اچھا وصف ہے جس عورت میں یہ صفت پائی جائے وہ اچھی بیوی ثابت ہو گی۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1861 سے ماخوذ ہے۔