حدیث نمبر: 1833
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْوَسْقُ سِتُّونَ صَاعًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزكاة / حدیث: 1833
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف جدا , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, ضعيف, العرزمي محمد بن عبيد اللّٰه: متروك, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 445
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 2484 ، 2942 ، ومصباح الزجاجة : 652 ) ( ضعیف جدا ) » ( سند میں محمد بن عبید اللہ متروک الحدیث ہے )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´ایک وسق میں ساٹھ صاع ہوتے ہیں۔`
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1833]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: (1)
اہل لغت نے وسق کی یہی مقدار بیان کی ہے۔
اور گزشتہ صحیح روایت میں بھی یہی مقدار بیان کی گئی ہے۔
علامہ ابن اثیررحمة الله عليه  نے فرمایا: ’’وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے۔‘‘
صاع اور مد کی مقدار میں اہل حجاز اور اہل عراق میں اختلاف ہونے کی وجہ سے اہل حجاز کے ہاں وسق تین سو بیس رطل (ایک سو ساٹھ سیر یا چار من)
کے برابر ہوتا ہے اور اہل عراق کے ہاں چار سو اسی رطل (دو سو چالیس سیر یا چھ من)
کے برابر ہوتا ہے۔ (النہایة: 5؍185 مادہ: وسق)
معتبر وزن حجازی ہے جس کی رو سے ایک وسق چار من کے قریب ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1833 سے ماخوذ ہے۔