حدیث نمبر: 1830
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَمَّارٍ الْمُؤَذِّنِ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ مُؤَذِّنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَرَ بِصَدَقَةِ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ سُلْتٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´مؤذن رسول سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاع کھجور ، ایک صاع جو اور ایک صاع سلت ( بے چھلکے کا جو ) صدقہ فطر میں دینے کا حکم دیا ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الزكاة / حدیث: 1830
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 10345 ، ومصباح الزجاجة : 650 ) ( صحیح ) » ( اس سند میں عمار بن سعد تابعی ہیں ، اس لئے یہ روایت مرسل ہے ، نیز عبد الرحمن بن سعد ضعیف ہیں ، لیکن حدیث شواہد کی بناء پر صحیح ہے )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´صدقہ فطر کا بیان۔`
مؤذن رسول سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاع کھجور، ایک صاع جو اور ایک صاع سلت (بے چھلکے کا جو) صدقہ فطر میں دینے کا حکم دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1830]
اردو حاشہ:
فائده:
سلت ایک قسم کا جو ہے جس پر عام جو (شعیر)
کی طرح چھلکا نہیں ہوتا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1830 سے ماخوذ ہے۔