سنن ابن ماجه
كتاب الزكاة— کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
بَابُ : صَدَقَةِ الزُّرُوعِ وَالثِّمَارِ باب: غلوں اور پھلوں کی زکاۃ کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ : " بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ ، وَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِمَّا سَقَتِ السَّمَاءُ ، وَمَا سُقِيَ بَعْلًا الْعُشْرَ ، وَمَا سُقِيَ بِالدَّوَالِي نِصْفَ الْعُشْرِ " ، قَالَ يَحْيَى بْنُ آدَمَ : الْبَعْلُ ، وَالْعَثَرِيُّ ، وَالْعَذْيُ هُوَ الَّذِي يُسْقَى بِمَاءِ السَّمَاءِ ، وَالْعَثَرِيُّ مَا يُزْرَعُ لِلسَّحَابِ ، وَلِلمَطَرِ خَاصَّةً لَيْسَ يُصِيبُهُ إِلَّا مَاءُ الْمَطَرِ ، وَالْبَعْلُ مَا كَانَ مِنَ الْكُرُومِ قَدْ ذَهَبَتْ عُرُوقُهُ فِي الْأَرْضِ إِلَى الْمَاءِ ، فَلَا يَحْتَاجُ إِلَى السَّقْيِ الْخَمْسَ سِنِينَ ، وَالسِّتَّ يَحْتَمِلُ تَرْكَ السَّقْيِ فَهَذَا الْبَعْلُ ، وَالسَّيْلُ مَاءُ الْوَادِي إِذَا سَالَ ، وَالْغَيْلُ سَيْلٌ دُونَ سَيْلٍ .
´معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن بھیجا ، اور حکم دیا کہ جو پیداوار بارش کے پانی سے ہو اور جو زمین کی تری سے ہو اس میں دسواں حصہ زکاۃ لوں ، اور جو چرخی کے پانی سے ہو اس میں بیسواں حصہ لوں ۔ یحییٰ بن آدم کہتے ہیں : «بعل» ، «عثری» اور «عذی» وہ زراعت ( کھیتی ) ہے جو بارش کے پانی سے سیراب کی جائے ، اور «عثری» اس زراعت کو کہتے ہیں : جو خاص بارش کے پانی سے ہی بوئی جائے اور دوسرا پانی اسے نہ پہنچے ، اور «بعل» وہ انگور ہے جس کی جڑیں زمین کے اندر پانی تک چلی گئی ہوں اور اوپر سے پانچ چھ سال تک پانی دینے کی حاجت نہ ہو ، بغیر سینچائی کے کام چل جائے ، اور «سیل» کہتے ہیں وادی کے بہتے پانی کو ، اور «غیل» کہتے ہیں چھوٹے «سیل» کو ۱؎ ۔