سنن ابن ماجه
كتاب الزكاة— کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
بَابُ : مَا تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ مِنَ الأَمْوَالِ باب: جن مالوں میں زکاۃ واجب ہے اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 1815
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : " إِنَّمَا سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّكَاةَ فِي هَذِهِ الْخَمْسَةِ فِي الْحِنْطَةِ ، وَالشَّعِيرِ ، وَالتَّمْرِ ، وَالزَّبِيبِ ، وَالذُّرَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پانچ چیزوں میں زکاۃ مقرر کی ہے : گیہوں ، جو ، کھجور ، انگور اور مکئی میں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جن مالوں میں زکاۃ واجب ہے اس کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پانچ چیزوں میں زکاۃ مقرر کی ہے: گیہوں، جو، کھجور، انگور اور مکئی میں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1815]
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پانچ چیزوں میں زکاۃ مقرر کی ہے: گیہوں، جو، کھجور، انگور اور مکئی میں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1815]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے، تاہم مسئلہ اسی طرح ہے کہ جو زرعی اجناس خشک کر کے ذخیرہ کی جا سکتی ہوں ان پر زکاۃ ہے، ان کا نصاب پانچ وسق، یعنی بیس من ہے۔ (سنن ابن ماجة، حدیث: 1794)
گندم اور جو جب بھوسا سے الگ کر کے ماپے تولے جائیں، اگر بیس من ہو جائیں تو زکاۃ واجب ہو گی۔
کھجور اور منفی بھی خشک کر کے ذخیرہ کرنے کے قابل ہو جائے تو ماپنا تولنا چاہیے۔
ان اشیاء میں زکاۃ کی مقدار اگلے باب میں مذکور ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے، تاہم مسئلہ اسی طرح ہے کہ جو زرعی اجناس خشک کر کے ذخیرہ کی جا سکتی ہوں ان پر زکاۃ ہے، ان کا نصاب پانچ وسق، یعنی بیس من ہے۔ (سنن ابن ماجة، حدیث: 1794)
گندم اور جو جب بھوسا سے الگ کر کے ماپے تولے جائیں، اگر بیس من ہو جائیں تو زکاۃ واجب ہو گی۔
کھجور اور منفی بھی خشک کر کے ذخیرہ کرنے کے قابل ہو جائے تو ماپنا تولنا چاہیے۔
ان اشیاء میں زکاۃ کی مقدار اگلے باب میں مذکور ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1815 سے ماخوذ ہے۔