سنن ابن ماجه
(أبواب كتاب السنة)— (ابواب کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت)
بَابُ : فِيمَا أَنْكَرَتِ الْجَهْمِيَّةُ باب: جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ۔
حدیث نمبر: 181
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ضَحِكَ رَبُّنَا مِنْ قُنُوطِ عِبَادِهِ وَقُرْبِ غِيَرِهِ " ، قَالَ : قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَ يَضْحَكُ الرَّبُّ ؟ ، قَالَ : " نَعَمْ " قُلْتُ : لَنْ نَعْدِمَ مِنْ رَبٍّ يَضْحَكُ خَيْرًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابورزین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہمارا رب اپنے بندوں کے مایوس ہونے سے ہنستا ہے جب کہ اللہ کی طرف سے ان کی حالت بدلنے کا وقت قریب ہوتا ہے “ ، وہ کہتے ہیں : میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا رب ہنستا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں “ ، تو میں نے عرض کیا : تب تو ہم ایسے رب کے خیر سے ہرگز محروم نہ رہیں گے جو ہنستا ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے اللہ تعالیٰ کی صفت ضحک کا اثبات ہوتا ہے، اور اس کا ہنسنا ایسا ہے جیسا اس کی شان کے لائق ہے۔